Wednesday, September 6, 2023

بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل

 

بچے کی شخصیت کیسے بنتی ہے؟ اگرچہ اردگرد کی دنیا کے بارے میں بچہ اپنے مشاہدے سے بہت کچھ سیکھتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ اِنسان کس طرح سے معاملات چلاتا ہے۔ مثلاً بچہ دیکھتا ہے کہ اُس کے والدین صفائی اور پاکیزگی پر بہت حساس ہیں اور گھر میں نجاست اور گندگی پھیلنے نہیں دیتے۔ بچہ اس سے اچھا پیغام لیتا ہے۔ لیکن یہ اچھی باتیں اُس کی شخصیت کا ایک حصہ تشکیل دیتی ہے۔ شخصیت کا ایک بڑا حصہ وہ اُس رائے سے بناتا ہے جو والدین اور استاد اُس کے بارے میں رکھتے ہیں۔ کیوں کہ اُس کی نظر سب سے اہم رائے والدین اور استاد کی ہے۔

 

اب اگر کوئی آپ کے سامنے کہے کہ آپ کا بچہ شرمیلاہے، اِس میں خود اعتمادی نہیں، یہ صحیح بات نہیں کر سکتا، یہ ذہین نہیں ہے، یہ جلدی سیکھ نہیں سکتا، یہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں کند ذہن ہے، اب اگر آپ نے بھی یہ بات قبول کر لی اور آپ کے بچے نے یہ سن لیا اور دیکھ لیا کہ اُس کے والدین بھی اُس کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اِس قسم کا بنتا چلا جائے گا۔

 

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اُس کے والدین کبھی غلط بات نہیں کر سکتے اور جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں یقینا ایسا ہی ہوگا۔ اب اگر کوئی شخص آپ کے بچے پر کوئی لیبل لگائے تو فوراً وہیں اُس کے جواب میں اُس لیبل کو ختم کریں  کہ بچہ ایسا ہے۔ ممکن ہے بچے میں واقعا کوئی مسئلہ ہو لیکن اس بات کا بچوں کے سامنے اظہار کرنا اُنہیں مزید کمزور کر دیتا ہے۔اگر آپ کویقین ہے کہ آپ کا بچہ کمزور ہے، کند ذہن ہے، جلدی نہیں سیکھتا تو اُسے یہ سب بتانے یا دہرانے کی بالکل ضرورت نہیں۔

 

ہم جس قدر بچے کی جسمانی صحت کے بارے میں الرٹ رہتے ہیں ہمیں اپنے بچے کی ذہنی صحت کے بارے میں بھی اتنا ہی صحت مند رہنا ہوگا۔ ہمارے الفاظ، رویہ اور عمل بچے کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ اِن کے انتخاب میں بہت احتیاط کریں تاکہ جسمانی اور ذہنی اعتبار سے ایک صحت مند بچے کی پرورش کر سکیں۔

بچوں کو خود اعتمادی کیسے دیں؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچوں کو خود اعتمادی کیسے دیں؟

 

زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لئے خود اعتمادی  کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں اہم بات یہ ہے کہ اِس پر زندگی کے ابتدائی  مرحلے میں ہی کام ہونا چاہیے۔ ہمارا عمومی رویہ ہوتا ہے کہ جب بچہ پہلے سات سال کے مرحلے میں ہوتا ہے تو اُسے کسی قدر پیار ملتا ہے، جب وہ کوئی بات کرنے لگتا ہے تو اُس کی بات سنتے ہیں لیکن جیسے جیسے یہ بچہ بڑا ہوتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ نہ بولے۔ اُسے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑوں کے معاملات میں نہ بولے۔ اُس کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہاری مرضی، تمہاری رائے بالکل اہم نہیں۔ وہ جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو اکثر اوقات اُس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔

 

خود اعتمادی دینے کے لئے ضروری ہے کہ بچے کو بات کرنے کا، اظہار کرنے کا موقع دیا جائے۔ وہ جب بول رہا ہو تو اُسے یہ خطرہ نہ ہو کہ اُسے فوراً ہی ڈانٹ دیا جائے گا۔ ممکن ہے بچہ کوئی ایسی اچھی بات کرے جو ابھی اُس میں پیدا نہیں ہوئی ہو، اس کے جواب میں اُسے طنز کے ذریعے احساس دلانا کہ تم خود تو ایسے نہیں ہو، یہ اُس کی خود اعتمادی ختم کر دینے کے مترادف ہے۔

 

بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہےوالدین اپنا کنٹرول بڑھاتے جاتے ہیں۔ ممکن ہے والدین کی یہ کوشش اس وجہ سے ہو کہ اُن کی نظر میں اب اُس کا گمراہ ہونا، بری عادتوں میں پڑنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ کنٹرول کی شدت اس بات کا باعث بنتی ہے کہ بچے اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ اگر والدین سے کوئی بات کرنا بھی چاہیے، کچھ شیئر کرنا بھی چاہیے تو نہیں کرے گا۔ اُسے نہ خود پر اعتماد ہو گا اور نہ والدین پر کہ اُس کی بات کو سمجھا جائے گا۔ کنٹرول اپنی جگہ پر ضروری ہے  لیکن والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے کا کم ہونا اور  والدین کا اپنے بچوں کو پر اعتماد کرنا بھی ضروری ہے۔ گھر کے مسائل میں بچوں سے رائے لینا، اپنی رائے دینے سے پہلے بچوں کی رائے لینا، روٹین کے معمولی فیصلوں میں اُسے اختیار دینا بھی بچوں میں خود اعتمادی بڑھاتا ہے۔

Monday, September 4, 2023

بچوں کو کیا چاہیے؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچوں کو کیا چاہیے؟

 

ہم سمجھتے ہیں کہ بچے موبائل مانگتے ہیں، تو انہیں موبائل چاہیے۔ حقیقت میں بچوں کو موبائل نہیں چاہیے بلکہ اُنہیں آپ کی ضرورت ہے۔ آپ بچے سے موبائل لیتے ہیں لیکن اُس کے بعد اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کہ بچے کے ساتھ تھوڑا وقت گزاریں، بچے کے ساتھ کھیلیں یا کوئی اور سرگرمی انجام دیں۔ اگر بچوں کو موبائل سے دور کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اور بچے کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہوگا۔

 

بچے کو اچھا وقت دینے کا مطلب یہ نہیں ہے لازماً اُس کے ساتھ کھیلا جائے۔ اُس کے ساتھ گفتگو بھی ہو سکتی ہے، اگر وہ سکول جاتا ہے تو اُس سے پوچھ سکتے ہیں کہ سکول میں دن کیسا رہا، استاد سے متعلق، اُس کے دوستوں سے متعلق، سکول کے ماحول سے متعلق، آنے جانے سے متعلق اُس سے سوالات کریں۔ اگر بچہ سکول نہیں جاتا تو بھی اُس سے مختلف موضوعات پر بات ہو سکتی ہے۔ مثلاً بارش اچھی لگتی ہے یا نہیں، بارش میں کیا دل کرتا ہے، محلے یا رشتہ داروں میں کون سا دوست اچھا لگتا ہے، کس سے کھیلنا اچھا لگتا ہے، کون سی کھیل پسند ہے وغیرہ۔ بچے کو کہانی سنا سکتے ہیں یا  اُس سے کہانی سن سکتے ہیں۔ بچے کو داستان، کہانی، واقعہ بیان کرنے کا موقع دیں۔ ضروری نہیں کہانی ہو۔ مثلاًاگر والد کے ساتھ مسجد جائے یا بازار جائے تو کیسے گئے، وہاں کیا دیکھا، کیا ہوا وغیرہ۔

 

کوالٹی ٹائم کا یہ مطلب بھی ہے کہ اُس دوران کوئی اور کام نہ کیا جائے۔ ایسا نہ ہو خود موبائل پر مصروف ہوں، کال یا میسج کر رہے ہوں، گیم کھیل رہے ہوں اور دوسری طرف بچے سے کہا ہو کہ وہ آپ سے بات کرے، آپ کی کسی بات کا جواب دے۔ یا آپ کچن میں مصروف ہوں اور چاہیں کہ بچے سے باتیں کریں ۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کوالٹی ٹائم یہ ہے کہ بیشک دس منٹ ہوں لیکن یہ دس منٹ مکمل بچے کے ہوں۔ بیچ میں کوئی موبائل، کوئی مصروفیت نہ ہو۔ حتیٰ اگر کوئی ایمرجنسی کال وغیرہ نہ ہو تو اُسے بھی نہ اٹھایا جائے۔

 

جب بچہ موبائل یا کوئی چیز مانگتا ہے اور ہم اُسے نہیں دیتے  اور نہ ہی اُسے کوئی اور سرگرمی دیتے ہیں، نہ اس کو وقت دیتے ہیں تو وہ روتا ہے۔ ہم کیا کرتے ہیں؟ اُسے زبردستی خاموش کرا دیتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب وہ پرسکون ہو گیا ہے بلکہ ہم نے اُس کا رونا دبا دیا ہے۔ اِس سے بچے میں ڈپریشن، غصہ، نفرت وغیرہ جنم لیتے ہیں۔

Sunday, September 3, 2023

بچوں کی غلطیوں پر غصے میں آنا

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچوں کی غلطیوں پر غصے میں آنا

 

انسانی جذبات مثبت یا منفی نہیں ہوتے۔ اِن کا ہونا بالکل فطری ہے۔کسی بھی غلط بات پر غصہ آنا فطری ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ غصہ بری چیز ہے تو دراصل یہ خود غیر فطری بات ہے۔ جذبات اور احساسات انسانی شخصیت کا حصہ ہیں اور ان کےبغیر انسان، انسان نہیں رہتا۔اصل مسئلہ جذبات اور احساسات کے اظہار پر کنٹرول کا ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کو بھی غصہ آتا تھا لیکن رسول اللہﷺ ہمیشہ اُس کےاظہار میں کمال رکھتے تھے۔ امیر المومنینؑ کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک جنگ کے دوران جب اُنہوں نے اپنے مخالف کو زمین پر گرا دیا تو اُس نے آپؑ کے چہرہ مبارک پر لعاب دہن پھینک کر غصہ دلایا۔ تو آپؑ فوراً اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اُسے چند لمحوں کے لئے چھوڑ دیا۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی کسی کی بھی توہین کرتا ہے تو اُسے غصہ آنا فطری ہے۔ غصہ آئے گا لیکن غصے میں انسان کیا ردعمل دکھاتا ہے یہ اہم ہے۔ اِس ردعمل کو کنٹرول کریں تو بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

 

معمولاً بچوں کی شرارتوں پر والدین کو غصہ آتا ہے تو وہ پہلے مرحلے میں چیخ کر بولتے ہیں، اس کے بعد ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو روٹین میں استعمال نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی بات جسمانی سزا تک پہنچ جاتی ہے۔

سورہ یوسف کی تلاوت کریں تو ہمیں ایک نکتہ بہت اچھی طرح دکھائی دیتاہے اور وہ حضرت یعقوبؑ کا اپنے بیٹوں سے گفتگو کا طریقہ کار ہے۔ یعنی وہ اُن بیٹوں کے ساتھ جنہوں نے یوسف کو اُن سے جدا کیا اور جس کی جدائی میں روتے روتے اُن کی آنکھیں سفید ہو گئیں لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی جب وہ اپنے بیٹوں کو مخاطب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: یا بنی۔ یعنی اے میرے بیٹو۔ عربی میں یہ لفظ اُس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی بہت محبت کے ساتھ پکارتا ہے۔ آپ سورہ یوسف دیکھیں۔ اکثر جگہوں پر آپ حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو اسی طرح پکارا ہے۔

ہمارے بچوں کی شرارتیں حضرت یعقوبؑ کے بیٹوں کے جرم سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ اُن کی شرارتوں پر کوشش کریں کہ آواز بلند نہ ہو، ایسے الفاظ استعمال نہ ہوں جس سے اُس پر برا اثر پڑے اور کبھی بھی جسمانی سزا کی طرف نہ جائیں۔ بچپن میں ہم اُن کی جس طرح سے شخصیت تعمیر کریں گے، اُس کا اثر اُن کی اس دنیا اور قیامت کے بعد کے حالات و واقعات تک جاتا ہے۔ اِس لئے کچھ ایسا کریں کہ تربیت میں محبت اور احترام زیادہ سے زیادہ ہو۔

Thursday, August 31, 2023

کیا شوہر اور زوجہ کے درمیان عزت و احترام کا رشتہ ضروری ہے؟ یہ کام کیسے ہوگا؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شوہر اور زوجہ کا ایک دوسرے کا احترام کرنا

 

سوال: ایک دوسرے کا احترام کیسے کیا جائے؟ کیا دینی نگاہ سے یہ لازم ہے کہ شوہر اور زوجہ ایک دوسرے کا احترام کریں۔احترام سے مراد کیا ہے؟

جواب: قرآنی تعلیمات میں انسان کی خلقت کا مقصد خداوند متعال کی عبودیت اور بندگی ہے۔ انسان اس عالم میں خلق ہوا ہے تاکہ اپنے ارادے اور اختیار سے خدا کی جانب سفر طے کر سکے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون (زاریات۔آیت 56)۔ یعنی ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر صرف بندگی کے لئے۔اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہر انسان، انسان ہونے کی حیثیت میں اور خلقت میں برابر ہے۔ کوئی اِس وجہ سے کمتر نہیں کہ وہ عورت ہے یا کوئی اِس وجہ سے برتر نہیں کہ مرد پیدا ہوا ہے۔ یہ فضیلت کا معیار ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم نے جو معیار بتایا ہے وہ تقویٰ ہے۔ چونکہ مرد پیدا ہونے میں خود مرد کا اختیار نہیں ہے اور عورت پیدا ہونے میں عورت کا ارادہ شامل نہیں ہے۔ عزت و احترام کا حقدار جس قدر مرد ہے، اُسی قدر عورت بھی ہے۔

 

2۔ احترام سے مراد یہ ہے کہ انسان دوسرے کی عزت نفس اور وقار کا خیال رکھے۔ تنہائی میں ہوں یا دوسرے لوگوں کے سامنے، ایک دوسرے کے لئے اچھے الفاظ استعمال کریں۔ ایک دوسرے کو برے نام سے پکارنا یا گالی دینا سختی سے منع ہے۔ ایسے ماحول میں بچوں پر کیا اثر پڑے گا جہاں والدین ہی آپس میں احترام نہ کرتے ہوں یا ایکد وسرے کے ساتھ نامناسب الفاظ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوں!

 

3۔ انسانی تربیت میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان دوسرے کا احترام کرے۔ اگر شوہر چاہیے کہ زوجہ کی تربیت کرے یا زوجہ چاہیے کہ شوہر کی تربیت کرے تو احترام کا رابطہ ضروری ہے۔ ضد، گالی گلوچ، ہر وقت طنز  سے بات کرنا، اس سے تربیت نہیں ہو سکتی۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ میاں بیوی سو فیصد ایک جیسا سوچتے ہوں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر دوسرا ہم سے مختلف سوچتاہے تو یہ کوئی برائی نہیں ہے۔ انسان کا مزاج، پسند ناپسند مختلف ہو سکتا ہے۔ میاں بیوی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو اپنی پسند و ناپسند پر مجبور نہ کریں بلکہ زیادہ تر ایسے موضوعات میں مشترکہ پہلو تلاش کریں ۔ ایک دوسرے کی خاطر اپنی پسند و ناپسند سے گزرنا بھی ایثار اور احترام کی علامت ہے۔

 

4۔ عزت و احترام کا رشتہ صرف اپنے سے بڑے سے نہیں ہوتا بلکہ ہر انسان کے ساتھ یہی طریقہ کار ہونا چاہیے۔ حتیٰ بچوں کو بھی احترام دیں اس کے تربیتی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ بچوں کی کسی بات کو ہنسی مذاق کا نشانہ بنا لینا اور اُسے ہمیشہ احساس دلانا کہ فلاں وقت میں تم نے فلاں احمقانہ بات کی تھی، شخصیت شکنی کی بدترین مثال ہے۔  

Wednesday, August 30, 2023

پہلے سات سالوں میں بچوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اپنایا جائے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پہلے سات سالوں میں بچوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اپنایا جائے۔

1۔ بچہ اُن باتوں سے کم سیکھتا ہے جو اُسے کہی جاتی ہیں اور اُس سے زیادہ سیکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے۔ لہٰذا گھر کے ماحول میں بچے کے سامنے ہمیشہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے سے پیش آیا جائے۔ اگر زوجہ، اپنے شوہر کا احترام کرتی ہو، اُس کے سامنے چیخ کر نہ بولے، الفاظ کا مناسب انتخاب کرے اور اِسی طرح شوہر بھی اپنی زوجہ کو عزت و احترام دے، اُس کی عزت نفس کا خیال رکھے، اُسے اپنی کنیز نہ سمجھے تو بچہ اِس سے بہت مثبت اثر لے گا۔

2۔ بچے کی زندگی کے پہلے سال میں وہ زبان نہیں سمجھتا۔ وہ آپ کے چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کے لمس سےہی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے جب  اس عمر میں بچے بے چین رہتے ہیں تو مائیں غصے میں آ کر اُن پر چیختیں ہیں، یہ چیخنا چلانا کبھی بھی بچے پر مثبت اثر نہیں ڈال سکتا۔

3۔ اگرچہ بچے کے پہلے سات سالوں میں بچے پر سختی نہیں کر سکتے، جسمانی سزا کا تو تصور بھی نہیں ہے لیکن بچے کے پہلے تین سال اور اگلے چار سالوں میں والدین کے رویے میں فرق ہوگا۔

مثلاً تین سال سے کم عمر بچہ دلیل نہیں سمجھ سکتا۔ مثلاً وہ چاہتا ہے کہ بجلی کی تاروں کو ہاتھ لگائیں یا چھری چاقو سے کھیلنا چاہتا ہے۔ جب بچہ اس طرح کا کام کرنے لگے تو دو کام کریں: ایک تو اُسے بالکل موقع نہ دیں کہ وہ ایسا کام کرے۔ یعنی فوراً اُس سے وہ چیز دور کریں یا لے لیں۔ یہ کام کرتے ہوئے چیخنے، چلانے یا ڈرانے دھمکانے کی ضرورت نہیں۔ خاموشی سے وہ چیز دور کر دیں۔ دوسرا یہ کہ بچے کو کسی اور کام میں ضرور لگائیں۔ کسی کھیل میں لگا دیں۔ خود کھیلنے لگ جائیں۔ جب تک اُس کی توجہ مکمل طور پر نہیں ہٹ جاتی، اُسے کوئی نہ کوئی سرگرمی دیں۔

چار سال اور اس سے بڑا بچہ کسی حد تک بات سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ کوشش کریں کہ اس بچے سے ڈسکشن کے ذریعے اور گفتگو کے ذریعے باور کروائیں کہ فلاں چیز نقصان دہ ہے۔

4۔اس عمر میں بچہ شرارتیں کرتا ہے۔اُن کی بے ضرر شرارتوں پر بالکل پریشان نہ ہوں۔ بچے کو ہر وقت ٹوکنا، غصے سے ڈانٹنا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ بچے اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی شرارتیں جو خطرناک ہیں، کوشش کریں کہ اُن کا متبادل دیں۔ یعنی بچے کے لئے کھیلنے کا سامان یا سرگرمی ہونی چاہیے۔

5۔ اِس عمر میں ضروری ہے کہ بچہ والدین سے ہر بات شیئر کرے۔ بچے کا بھرپور خیال رکھیں ، اگروہ محلے میں اکیلا دکان پر جاتا ہے (اگرچہ کوشش کریں کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ وہ اکیلا دکان پر جائے۔ چونکہ دکان کی چیزوں کی عادت بھی بچوں کے لئے نقصان دہ ہے) تو اُس کا خیال رکھیں۔۔اگر بچہ کسی بھی اجنبی یا جاننے والے  کے رویے کو نامناسب سمجھے تو والدین سے ذکر کرے گا۔اس سے کسی حد تک بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ 

بچوں کے لئے زندگی گزارنا

 بسم اللہ الرحمن الرحیم


ہمارے معاشرے کا ایک عمومی مزاج ہے جس میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ایک شخص صاحب اولاد ہو جاتا ہے تو وہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ بس اب جو کرنا ہے، بچوں کے لئے ہی کرنا ہے۔ یہ فقط دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں ماں باپ اپنے آپ کو بچوں کے لئے وقف کر دیتے ہیں، اُن کی زندگی کے تمام چھوٹے بڑے فیصلے بچوں کو سامنے رکھ کر ہوتے ہیں، اُن کی تمام کوششوں اور جدوجہد کا مرکز اُن کے بچے ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ موضوع اپنی جگہ کہ وہ کیا وہ بچوں کی ہر طرح کی ضروریات کو سامنے رکھ کر یہ کام کر رہے ہوتے ہیں یا اُس میں بھی بچوں کے فقط چند مسائل ہیں، جنہیں سامنے رکھا جاتا ہے اور باقی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ 

خداوند متعال نے انسان کو اپنی بندگی اور عبودیت کے لئے پیدا کیا ہے۔ انسان کے ہر فیصلے میں خدا کی مرضی کو سامنے رکھا جانا چاہیے۔یہ درست ہے کہ انسان اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار ہے لیکن انسان فقط اس ایک فریضے کی ادائیگی کے لئے دنیا میں نہیں آیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے انسان یہ فرض کر لے کہ وہ ساری عمر نماز ہی پڑھے گا اور باقی کوئی کام نہیں کرے گا۔ وہ صبح شام واجب اور مستحب نمازیں پڑھتا رہتا ہے لیکن کیا اس سے وہ باقی فرائض سے جان چھڑا سکتا ہے؟ 


اولاد کا اپنا مقام ہے اور اُس حوالے سے جو فرائض ہیں انہیں انجام دینا ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلی دینی ذمہ داری پر کام کرنا ضروری ہے۔آپ چاہیے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، کسی بھی کاروبار یا ملازمت سے وابستہ ہوں، یاد رکھیں آپ کی حقیقی ذمہ داری خدا کی بندگی ہے اور اس کا راستہ ہمیں انبیاء نے دکھایا ہے۔ انبیاء کی آمد کا ایک مقصد معاشرے میں عدالت کا قیام ہے لیکن قیام براہ راست نہیں ہے۔معاشرے کو ظلم سے نجات دینے اور عدالت کی طرف لے جانے میں تزکیہ، تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے۔ اپنے روزمرہ کی مصروفیات اور خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اِن اہداف کے لئے منصوبہ بندی کریں، وقت، توانائی اور وسائل خرچ کریں۔ 

Tuesday, August 29, 2023

کیا تعلیم و تربیت میں مہارت ضروری ہے؟ کیا تعلیم و تربیت میری دینی ذمہ داری ہے؟ اگر میں تعلیم و تربیت کے شعبے میں کام نہیں کر سکتا تو کیا کروں؟

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کیا تعلیم و تربیت کے شعبے میں ہماری مہارت رکھنا ضروری ہے؟

جواب: بالکل ضروری ہے۔ دین نے انسان سے یہ نہیں چاہتا کہ فقط اپنی فکر کرے اور باقی دنیا کو فراموش کر کے خدا کو پانے کی جستجو کرے۔ خدا چاہتا ہے کہ خود انسان بھی راہ ہدایت پر ہو اور پھر دوسروں کی ہدایت کرے۔ اِس کے لئے اپنی تربیت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی تربیت کی ذمہ داری بھی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ ذمہ داری رسمی ہو یعنی کوئی سکول، کالج یا یونیورسٹی ہو، کوئی تنظیم ہو۔ جس طرح اپنی تربیت کے لئے انسان کو کسی کلاس کے لئے جانے کی ضرورت نہیں بلکہ بغیر کسی رسمی کلاس کے اپنی تربیت کر سکتا ہے اِسی طرح دوسروں سے معاملات انجام دیتے ہوئے، دوسرے افراد سے رابطہ رکھتے ہوئے، کاروبار میں یا ملازمت کی جگہ پر اپنا رویہ ایسا رکھ سکتا ہے کہ دوسرے لوگ آپ سے کچھ سیکھ رہے ہوں اور اپنی زندگی میں بہتری لا رہے ہوں۔ 

سوال: کیا تعلیم و تربیت ہماری دینی ذمہ داری ہے؟

جواب: سو فیصد دینی ذمہ داری ہے۔ قرآن کریم میں چار مقامات پر انبیاء کے کام کا ذکر ہوا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ انبیاء لوگوں کا تزکیہ کرتے، کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے تھے۔ اگر ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہے اور معاشرے کو بدلنا ہے تو انبیاء کے طریقہ کار کی پیروی کرنا ہوگی۔ ہمیں بھی انبیاء کے طریقے سے ہی معاشرے میں کام کرنا ہوگاتاکہ نتائج لے سکیں۔ 

سوال: میرا کاروبار، مشغلہ یا ملازمت تعلیم و تربیت سے مربوط نہیں ہے تو میں اپنی ذمہ داری کیسے ادا کروں؟

جواب: ٹھیک ہے آپ مستقل طور پر کسی کام کو انجام نہیں دے سکتے تو کم از کم یہ کام کر سکتے ہیں: 

1۔ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی جو اس شعبےسے مربوط ہیں۔ اُن کی اخلاقی اور مالی حمایت کے ذریعے مدد ہو سکتی ہے۔

2۔ تعلیم و تربیت کے شعبے میں ایسے کاموں کی ضرورت کی تشخیص کر کے جن پر بالکل کام نہیں ہو رہا، اُس کام کے لئے وسائل جمع کرنا اور ماہرین کے ذریعے اُس کام کو تکمیل تک پہنچانا۔ 

3۔ اگر معاشرے میں تعلیم و تربیت کے ماہرین کی ضرورت ہے تو اپنے بچوں کے کیرئیر کے انتخاب میں اس بات کو مدنظر رکھنا۔ 


Monday, August 28, 2023

کیا تعلیم و تربیت ضروری ہے؟

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآن کریم، سورہ تحریم کی آیت نمبر 6 میں ارشاد ہوتا ہے۔ 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جن پر وہ ملائکہ معین ہوں گے جو سخت مزاج اور تندوتیز ہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اُسی پر عمل کرتے ہیں ۔

اِس آیت کا مخاطب صرف مرد نہیں ہیں بلکہ خواتین بھی ہیں۔ یعنی جس قدر مرد اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کا ذمہ دار ہے، اُتنا ہی خاتون بھی ذمہ دار ہے۔ 

جہنم کی آگ سے زبردستی نہیں بچایا جا سکتا کیونکہ اگر ایسا ہو سکتا تو حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو بچا لیتے۔ آگ سے بچانے کے لئے تعلیم و تربیت ہے۔ضمنا یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ تعلیم و تربیت کے نتیجے میں اگر کوئی سیدھے راستے پر نہیں آتا تو ضروری نہیں کہ اس سے تعلیم و تربیت کرنے والا ہی ذمہ دار ہو۔ بعض اوقات انسان اپنے اعمال کے سبب ہدایت پانے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ شاید انہی افراد کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کےآنکھوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے۔ 

اِس آیت میں ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان اپنے آپ کا ذمہ دارہے۔ پہلے  اپنی فکر کریں۔ پہلے اپنی تربیت کریں۔ پہلے اپنا راستہ درست کریں، اپنا اخلاق، اپنے اعمال ٹھیک کریں۔ اپنے نقائص اور کمزوریوں پر قابو پائیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو کام ہم خود کرتے ہوں، بچوں کو اُس سے منع کر سکیں۔ 

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ آگ سے بچانے کا عمل کب ہوگا؟ یقینا جنت جہنم کا فیصلہ قیامت کے دن ہے لیکن وہ اِس دنیا میں انجام پانے والے اعمال کی بنیاد پر ہے۔ لہٰذا جب کہا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسے زندگی گزاریں کہ جہنم کی آگ کے حقدار نہ بنیں۔ ایسی زندگی گزاریں جس طرح خدا چاہتا ہے۔ ایسی زندگی گزاریں جس طرح انبیاء اور ائمہ علیھم السلام نے گزاری۔ فقط روٹین کی زندگی گزار لینے سے اور اپنی ذات کے گرد چکر لگانےسے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ 

اب سوال یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت پر عمل کرنے کے لئے کیا چیز مقدمہ بن سکتی ہے؟ ایک چیز جو ضروری ہے وہ یہ کہ انسان یہ سیکھے کہ کس طرح اپنی تربیت کرے اور کیسے دوسروں کی تربیت کرے۔ جب تک ہم اِن موضوعات پر اپنی معلومات نہیں بڑھائیں گے، اپنی مہارت نہیں بڑھائیں گے یہ کام اچھے طریقے سے نہیں کر سکتے۔ 

Sunday, August 27, 2023

تعلیم وتربیت کے بنیادی سوالات

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعلیم و تربیت کے لئے تین چیزیں جاننا ضروری ہیں۔ 1۔ انسان شناسی۔ یعنی جس انسان کی تربیت کرنا چاہتے ہٰیں اُس کی کیا خصوصیات ہیں؟ 

البتہ اس مسئلے میں معرفت، شناسی، جہان شناسی اور خدا شناسی مقدم ہیں۔ معرفت شناسی یعنی یہ جو ہم علم حاصل کرتے ہیں اس کا اعتبار کتنا ہے۔ جہان بینی یعنی ہم جہان کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں۔ کیا جہان فقط مادی ہے  اور ظاہری آنکھ سے نظر آنے والا ہی جہان ہے یا اِس کے پس پردہ کچھ اور حقیقتیں بھی ہیں جنہیں ہم اپنی ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ خدا شناسی یعنی اگر ہم اس بات کے قائل ہو گئے کہ اِس کائنات کو کوئی بنانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے اور وہ خدا ہے تو پھر خدا سے متعلق جاننا ہوگا۔ اگر کائنات میں ایسا کوئی خدا ہے تو کیا اس نے اپنی مخلوقات سے رابطے کے لئے کوئی طریقہ کار رکھا ہے یا نہیں۔ تاریخ بشریت گواہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ آتے رہے جو یہ دعوی کرتے رہے کہ وہ خدا کے نمائندے ہیں۔ اس کے بعد جب ہم اس بات کے قائل ہو جاتے ہیں کہ اسلام ہی دین خاتم ہے اور دین اسلام ہی بنیاد ہے تو ہم اس بنیاد پر انسان شناسی تک پہنچتے ہیں۔ یعنی دیکھتے ہیں کہ دین اسلام کی نظر میں یہ انسان کیسا ہے؟ اِس کی کیا صفات ہیں۔


2۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جان لیں کہ آئیڈیل انسان کیسا ہے؟ دین اسلام کے نزدیک ایک کامل انسان، ایک مکمل انسان کیسا ہوگا۔ ایک کمال یافتہ انسان کیسا ہوگا؟ جب تک یہ بہترین طریقے سے نہ سمجھ لیں تعلیم و تربیت کا عمل ناقص رہ جائے گا۔ 


3۔تیسر امسئلہ تعلیم و تربیت سے متعلق ہے یعنی انسان موجود سے انسان مطلوب بنانے کے لئے کس طرح کی تعلیم و تربیت ضروری ہے۔