Wednesday, September 6, 2023

بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل

 

بچے کی شخصیت کیسے بنتی ہے؟ اگرچہ اردگرد کی دنیا کے بارے میں بچہ اپنے مشاہدے سے بہت کچھ سیکھتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ اِنسان کس طرح سے معاملات چلاتا ہے۔ مثلاً بچہ دیکھتا ہے کہ اُس کے والدین صفائی اور پاکیزگی پر بہت حساس ہیں اور گھر میں نجاست اور گندگی پھیلنے نہیں دیتے۔ بچہ اس سے اچھا پیغام لیتا ہے۔ لیکن یہ اچھی باتیں اُس کی شخصیت کا ایک حصہ تشکیل دیتی ہے۔ شخصیت کا ایک بڑا حصہ وہ اُس رائے سے بناتا ہے جو والدین اور استاد اُس کے بارے میں رکھتے ہیں۔ کیوں کہ اُس کی نظر سب سے اہم رائے والدین اور استاد کی ہے۔

 

اب اگر کوئی آپ کے سامنے کہے کہ آپ کا بچہ شرمیلاہے، اِس میں خود اعتمادی نہیں، یہ صحیح بات نہیں کر سکتا، یہ ذہین نہیں ہے، یہ جلدی سیکھ نہیں سکتا، یہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں کند ذہن ہے، اب اگر آپ نے بھی یہ بات قبول کر لی اور آپ کے بچے نے یہ سن لیا اور دیکھ لیا کہ اُس کے والدین بھی اُس کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اِس قسم کا بنتا چلا جائے گا۔

 

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اُس کے والدین کبھی غلط بات نہیں کر سکتے اور جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں یقینا ایسا ہی ہوگا۔ اب اگر کوئی شخص آپ کے بچے پر کوئی لیبل لگائے تو فوراً وہیں اُس کے جواب میں اُس لیبل کو ختم کریں  کہ بچہ ایسا ہے۔ ممکن ہے بچے میں واقعا کوئی مسئلہ ہو لیکن اس بات کا بچوں کے سامنے اظہار کرنا اُنہیں مزید کمزور کر دیتا ہے۔اگر آپ کویقین ہے کہ آپ کا بچہ کمزور ہے، کند ذہن ہے، جلدی نہیں سیکھتا تو اُسے یہ سب بتانے یا دہرانے کی بالکل ضرورت نہیں۔

 

ہم جس قدر بچے کی جسمانی صحت کے بارے میں الرٹ رہتے ہیں ہمیں اپنے بچے کی ذہنی صحت کے بارے میں بھی اتنا ہی صحت مند رہنا ہوگا۔ ہمارے الفاظ، رویہ اور عمل بچے کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ اِن کے انتخاب میں بہت احتیاط کریں تاکہ جسمانی اور ذہنی اعتبار سے ایک صحت مند بچے کی پرورش کر سکیں۔

بچوں کو خود اعتمادی کیسے دیں؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچوں کو خود اعتمادی کیسے دیں؟

 

زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لئے خود اعتمادی  کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں اہم بات یہ ہے کہ اِس پر زندگی کے ابتدائی  مرحلے میں ہی کام ہونا چاہیے۔ ہمارا عمومی رویہ ہوتا ہے کہ جب بچہ پہلے سات سال کے مرحلے میں ہوتا ہے تو اُسے کسی قدر پیار ملتا ہے، جب وہ کوئی بات کرنے لگتا ہے تو اُس کی بات سنتے ہیں لیکن جیسے جیسے یہ بچہ بڑا ہوتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ نہ بولے۔ اُسے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑوں کے معاملات میں نہ بولے۔ اُس کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہاری مرضی، تمہاری رائے بالکل اہم نہیں۔ وہ جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو اکثر اوقات اُس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔

 

خود اعتمادی دینے کے لئے ضروری ہے کہ بچے کو بات کرنے کا، اظہار کرنے کا موقع دیا جائے۔ وہ جب بول رہا ہو تو اُسے یہ خطرہ نہ ہو کہ اُسے فوراً ہی ڈانٹ دیا جائے گا۔ ممکن ہے بچہ کوئی ایسی اچھی بات کرے جو ابھی اُس میں پیدا نہیں ہوئی ہو، اس کے جواب میں اُسے طنز کے ذریعے احساس دلانا کہ تم خود تو ایسے نہیں ہو، یہ اُس کی خود اعتمادی ختم کر دینے کے مترادف ہے۔

 

بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہےوالدین اپنا کنٹرول بڑھاتے جاتے ہیں۔ ممکن ہے والدین کی یہ کوشش اس وجہ سے ہو کہ اُن کی نظر میں اب اُس کا گمراہ ہونا، بری عادتوں میں پڑنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ کنٹرول کی شدت اس بات کا باعث بنتی ہے کہ بچے اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ اگر والدین سے کوئی بات کرنا بھی چاہیے، کچھ شیئر کرنا بھی چاہیے تو نہیں کرے گا۔ اُسے نہ خود پر اعتماد ہو گا اور نہ والدین پر کہ اُس کی بات کو سمجھا جائے گا۔ کنٹرول اپنی جگہ پر ضروری ہے  لیکن والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے کا کم ہونا اور  والدین کا اپنے بچوں کو پر اعتماد کرنا بھی ضروری ہے۔ گھر کے مسائل میں بچوں سے رائے لینا، اپنی رائے دینے سے پہلے بچوں کی رائے لینا، روٹین کے معمولی فیصلوں میں اُسے اختیار دینا بھی بچوں میں خود اعتمادی بڑھاتا ہے۔

Monday, September 4, 2023

بچوں کو کیا چاہیے؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچوں کو کیا چاہیے؟

 

ہم سمجھتے ہیں کہ بچے موبائل مانگتے ہیں، تو انہیں موبائل چاہیے۔ حقیقت میں بچوں کو موبائل نہیں چاہیے بلکہ اُنہیں آپ کی ضرورت ہے۔ آپ بچے سے موبائل لیتے ہیں لیکن اُس کے بعد اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کہ بچے کے ساتھ تھوڑا وقت گزاریں، بچے کے ساتھ کھیلیں یا کوئی اور سرگرمی انجام دیں۔ اگر بچوں کو موبائل سے دور کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اور بچے کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہوگا۔

 

بچے کو اچھا وقت دینے کا مطلب یہ نہیں ہے لازماً اُس کے ساتھ کھیلا جائے۔ اُس کے ساتھ گفتگو بھی ہو سکتی ہے، اگر وہ سکول جاتا ہے تو اُس سے پوچھ سکتے ہیں کہ سکول میں دن کیسا رہا، استاد سے متعلق، اُس کے دوستوں سے متعلق، سکول کے ماحول سے متعلق، آنے جانے سے متعلق اُس سے سوالات کریں۔ اگر بچہ سکول نہیں جاتا تو بھی اُس سے مختلف موضوعات پر بات ہو سکتی ہے۔ مثلاً بارش اچھی لگتی ہے یا نہیں، بارش میں کیا دل کرتا ہے، محلے یا رشتہ داروں میں کون سا دوست اچھا لگتا ہے، کس سے کھیلنا اچھا لگتا ہے، کون سی کھیل پسند ہے وغیرہ۔ بچے کو کہانی سنا سکتے ہیں یا  اُس سے کہانی سن سکتے ہیں۔ بچے کو داستان، کہانی، واقعہ بیان کرنے کا موقع دیں۔ ضروری نہیں کہانی ہو۔ مثلاًاگر والد کے ساتھ مسجد جائے یا بازار جائے تو کیسے گئے، وہاں کیا دیکھا، کیا ہوا وغیرہ۔

 

کوالٹی ٹائم کا یہ مطلب بھی ہے کہ اُس دوران کوئی اور کام نہ کیا جائے۔ ایسا نہ ہو خود موبائل پر مصروف ہوں، کال یا میسج کر رہے ہوں، گیم کھیل رہے ہوں اور دوسری طرف بچے سے کہا ہو کہ وہ آپ سے بات کرے، آپ کی کسی بات کا جواب دے۔ یا آپ کچن میں مصروف ہوں اور چاہیں کہ بچے سے باتیں کریں ۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کوالٹی ٹائم یہ ہے کہ بیشک دس منٹ ہوں لیکن یہ دس منٹ مکمل بچے کے ہوں۔ بیچ میں کوئی موبائل، کوئی مصروفیت نہ ہو۔ حتیٰ اگر کوئی ایمرجنسی کال وغیرہ نہ ہو تو اُسے بھی نہ اٹھایا جائے۔

 

جب بچہ موبائل یا کوئی چیز مانگتا ہے اور ہم اُسے نہیں دیتے  اور نہ ہی اُسے کوئی اور سرگرمی دیتے ہیں، نہ اس کو وقت دیتے ہیں تو وہ روتا ہے۔ ہم کیا کرتے ہیں؟ اُسے زبردستی خاموش کرا دیتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب وہ پرسکون ہو گیا ہے بلکہ ہم نے اُس کا رونا دبا دیا ہے۔ اِس سے بچے میں ڈپریشن، غصہ، نفرت وغیرہ جنم لیتے ہیں۔

Sunday, September 3, 2023

بچوں کی غلطیوں پر غصے میں آنا

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچوں کی غلطیوں پر غصے میں آنا

 

انسانی جذبات مثبت یا منفی نہیں ہوتے۔ اِن کا ہونا بالکل فطری ہے۔کسی بھی غلط بات پر غصہ آنا فطری ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ غصہ بری چیز ہے تو دراصل یہ خود غیر فطری بات ہے۔ جذبات اور احساسات انسانی شخصیت کا حصہ ہیں اور ان کےبغیر انسان، انسان نہیں رہتا۔اصل مسئلہ جذبات اور احساسات کے اظہار پر کنٹرول کا ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کو بھی غصہ آتا تھا لیکن رسول اللہﷺ ہمیشہ اُس کےاظہار میں کمال رکھتے تھے۔ امیر المومنینؑ کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک جنگ کے دوران جب اُنہوں نے اپنے مخالف کو زمین پر گرا دیا تو اُس نے آپؑ کے چہرہ مبارک پر لعاب دہن پھینک کر غصہ دلایا۔ تو آپؑ فوراً اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اُسے چند لمحوں کے لئے چھوڑ دیا۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی کسی کی بھی توہین کرتا ہے تو اُسے غصہ آنا فطری ہے۔ غصہ آئے گا لیکن غصے میں انسان کیا ردعمل دکھاتا ہے یہ اہم ہے۔ اِس ردعمل کو کنٹرول کریں تو بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

 

معمولاً بچوں کی شرارتوں پر والدین کو غصہ آتا ہے تو وہ پہلے مرحلے میں چیخ کر بولتے ہیں، اس کے بعد ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو روٹین میں استعمال نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی بات جسمانی سزا تک پہنچ جاتی ہے۔

سورہ یوسف کی تلاوت کریں تو ہمیں ایک نکتہ بہت اچھی طرح دکھائی دیتاہے اور وہ حضرت یعقوبؑ کا اپنے بیٹوں سے گفتگو کا طریقہ کار ہے۔ یعنی وہ اُن بیٹوں کے ساتھ جنہوں نے یوسف کو اُن سے جدا کیا اور جس کی جدائی میں روتے روتے اُن کی آنکھیں سفید ہو گئیں لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی جب وہ اپنے بیٹوں کو مخاطب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: یا بنی۔ یعنی اے میرے بیٹو۔ عربی میں یہ لفظ اُس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی بہت محبت کے ساتھ پکارتا ہے۔ آپ سورہ یوسف دیکھیں۔ اکثر جگہوں پر آپ حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو اسی طرح پکارا ہے۔

ہمارے بچوں کی شرارتیں حضرت یعقوبؑ کے بیٹوں کے جرم سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ اُن کی شرارتوں پر کوشش کریں کہ آواز بلند نہ ہو، ایسے الفاظ استعمال نہ ہوں جس سے اُس پر برا اثر پڑے اور کبھی بھی جسمانی سزا کی طرف نہ جائیں۔ بچپن میں ہم اُن کی جس طرح سے شخصیت تعمیر کریں گے، اُس کا اثر اُن کی اس دنیا اور قیامت کے بعد کے حالات و واقعات تک جاتا ہے۔ اِس لئے کچھ ایسا کریں کہ تربیت میں محبت اور احترام زیادہ سے زیادہ ہو۔