Sunday, April 19, 2020

کامیابی کا راستہ۔2


بسم اللہ الرحمن الرحیم
کامیابی کا راستہ۔2
(تحریر: عزادار حسین)

کامیابی خود چل کر کبھی انسان کے پاس نہیں آتی۔ ہمیشہ انسان کو کامیابی کے راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ راستے کی تکلیفوں کو برداشت کرنا پڑتاہے۔ دوسروں کی تکلیفوں کا احساس کرنا ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے درد سہنا پڑتا ہے۔ لوگ بلاوجہ حسن سے محبت نہیں کرتے تھے۔ حسن نے کچھ ایسا کیا تھا، جو دنیا کے پیچھے بھاگنے والے نہیں کر سکتے۔ حسن پہلے دن سے ایسا نہیں تھا، لیکن اللہ نے اُسے جو دوست دئیے، جو اُستاد دئیے، اُنہوں نے اُسے اِس راستے پر چلنے میں راہنمائی کی۔  ایسا ہی ایک قصہ اُس نے ڈائری میں دیکھا، جو بابا نے اُس کے بچپن میں اُس کےلئے لکھی تھی۔

ΩΩΩΩΩΩ

حسن  کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ بولنا چاہ رہا تھا لیکن بول نہیں پا رہا تھا۔ اُس کےوالد نے پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے! بیٹا، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے، میں تو تمہارے دوست جیسا ہوں۔‘ یہ بات درست بھی تھی، حسن کے والد ہمیشہ اُس کے لئےایک  دوست کی طرح رہے۔ حسن اپنی ہر بات اُنہیں بتاتا۔ حسن کے والد کہا کرتے تھے کہ بیٹوں کے والد دوست ہوتے ہیں اور بیٹیوں کے لئے والدہ دوست کی طرح ہوتی ہیں۔ اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت اچھے دوست  کا ہونا ہے۔ اگر انسان اپنے والدین سے دوستی کر لے، تو کبھی ٹھوکر نہ کھائے۔ اُس دن بھی حسن نے اپنے والد  کو سب کچھ بتا دیا  اور اِس واقعہ نےحقیقت میں اُس کی زندگی بدل ڈالی ۔پھر حسن بتانے لگا:

’آپ میری عادت جانتے ہیں، میں اپنے ماحول کو اچھی طرح دیکھتا ہوں اور کسی چیز سے لاتعلق ہو کر نہیں گزرتا ۔پچھلے دنوں  میں نے سکول جاتے ہوئے ایک چڑیا کے بچے کو زمین پر گرے ہوئے دیکھا، جس نے ابھی اڑنا نہیں سیکھا تھا۔   چڑیاں بھی شور مچا رہی تھیں۔میں نے چڑیا کے بچے کو اٹھایا اور کچھ کوشش کے بعد چڑیا کا گھونسلا ڈھونڈ نکالا اور وہاں بچے کو رکھ دیا۔ اِس وجہ سے میں سکول سے بھی تھوڑا لیٹ ہو گیا۔ اُستاد محترم نے مجھ سے لیٹ آنے کی وجہ پوچھی، تو میں نے اُنہیں واقعہ سنا دیا۔ وہ سن کر مسکرائے اور بولے: پودوں اور پرندوں کا خیال رکھنا بہت اچھا ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے گرد رہنے والوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ہو سکتا ہے کوئی مشکل میں ہو اور اُسے ہماری مدد کی ضرورت ہو۔‘ میرے لیےاُستاد کا اشارہ ہی کافی تھا۔  ایک دن میں نے اپنے دوست احمد کو دیکھا، تو مجھے احساس ہوا کہ اُس کے گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ اُسے لباس اور جوتوں سے بھی بہت کچھ واضح تھا۔وہ اکثر بیٹھے بیٹھے کھو جاتا ہے۔ اگرچہ وہ کلاس میں یہ ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا اور نہ ہی کبھی اُس نے کسی قسم کی ایسی بات کی، لیکن  کافی حد تک یقین ہو گیا کہ اُن کے گھر کے حالات یقیناً اچھے نہیں ہیں۔ چند دن پہلے میں نے اُس سے پوچھا تو اُس نے بتایاکہ اُس کے والد ایک سال پہلے فوت ہو چکے ہیں۔وہ  اپنی والدہ اور ایک چھوٹے بھائی کے ساتھ  ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں ۔ احمد گھر کا خرچہ چلانے کے لئے ایک ورکشاپ میں کام سیکھ رہا ہے۔ ورکشاپ کا مالک اُسے تھوڑے بہت پیسے دیتا ہے، جس سے گزارہ ہو رہا ہے۔‘

’آج جب تفریح کا وقفہ ہوا، تو میں نے دیکھا کہ حسن کی طبیعت خراب ہے۔ اُسے چکر آ رہے تھے۔ میں نے اُستاد محترم کو بتایا تو اُنہوں نے ایک ڈاکٹر کو بلوا کر اُس کا چیک اپ کروایا۔ احمد نہیں بتا رہا تھا، لیکن اُستاد نے  بالآخر اُس سے پوچھ ہی لیا۔ احمد  کے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ رات سے اُس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔‘ حسن بتاتے بتاتے پھر رونے لگا۔ حسن کے والدنے اُس سے کہا کہ احمد کی مشکل حل ہو جائےگی، لیکن تمہیں ایک وعدہ کرنا پڑے گاکہ تم کبھی یہ بات کسی کو نہیں بتاؤ گے۔ حسن نے وعدہ کیا۔ پھر اُس کے والد نے اُس سے کہا کہ وہ کھانا کھا لے تو پھر چلتے ہیں۔

کھانے کے بعد   حسن کے والد اُسے  ماموں کی طرف لے گئے۔ اُس کے ماموں، سرفراز صاحب محکمہ ڈاک میں کام کرتے تھے۔ حسن کے والد  نے اُنہیں احمد کے متعلق سب کچھ بتایا اور اِس کے بعد اُنہیں اس مسئلے کا حل بھی بتایا ۔ سرفراز صاحب نے بھی حسن کے والد کی بات قبول کر لی۔ حسن سب کچھ سننے کے بعد بہت خوش ہوا۔ بابا نے کچھ پیسے ماموں کو دئیے۔ ماموں نے فوراً ہی مخصوص لباس پہنا اور گھر سے نکل گئے۔ حسن بھی اپنے والد  کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔
ΩΩΩ
احمد کے گھر  دروازے پہ دستک ہوئی۔ آج طبیعت کی خرابی کی وجہ سے احمد گھر پر ہی تھا۔ اُستاد محترم  اُسے کھانے پینے کا سامان دے کر گھر بھیج دیا تھا۔ احمد  نے دروازہ کھولا تو ایک محکمہ ڈاک کی وردی پہنے ایک شخص کھڑا تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس کا نام سرفراز ہے اور وہ محکمہ ڈاک کی طرف سے آیا ہے۔اُنہوں نے   احمد سے اُس کا  نام اور والد کا نام  پوچھا اور ایک فارم میں لکھ لیا۔ پھر اُنہوں نے احمد  سے کہا کہ والد یا والدہ کو بھیجو۔احمد کی والدہ دروازے پہ آئیں تو  سرفراز صاحب نے بتایا کہ  حکومت نےایک سکیم شروع کی ہے اور اس سکیم کے تحت سکولوں کے کچھ اچھے بچوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جو بہت لائق ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ یہ بچے بغیر کسی مشکل کے تعلیم حاصل کرتے رہیں، لہٰذا اگر انہیں ضرورت  ہے تو انہیں ماہانہ  خرچ دیا جائے۔ احمد کی والدہ نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اُن کی گزر بسر ہو رہی ہے اور اُنہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ جب سرفراز صاحب نے احمد کی والدہ سے پوچھا کہ اُن کے شوہر  کیا کرتے ہیں، تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سرفراز صاحب نے کہا کہ پھر تو اُنہیں  لازماً  یہ مدد لینی پڑے گی۔ چونکہ حکومت کی طرف سے سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ جن بچوں کے والد فوت ہو چکے ہیں، اُنہیں ضرورت ہو یا نہ ہو، اُنہیں ماہانہ خرچ دیا جائے گا۔ لہٰذا یہاں ایک فارم پر سائن کریں۔ ایک فارم پر احمد کی والدہ نے سائن کیے ۔ اس کے بعد سرفراز صاحب نے اُنہیں کچھ پیسے دئیے اور کہا کہ وہ خود ہر مہینے یہ پیسے پہنچانے آئیں گے۔ احمد کی والدہ نے اُن  کا شکریہ ادا کیا اور وہ خدا حافظ کہہ کر چلے گئے

ΩΩΩ

حسن بہت عرصہ سوچتا رہا کہ اُس کے بابا کی آمدنی بہت زیادہ نہیں تھی، پھر کیسے اُنہوں نے احمد کی اس طرح مدد کی۔  یہ  راز سالوں بعد اُستاد کی وفات کے بعد اُسے والد نے بتایا کہ اُستاد محترم نے اُنہیں  سختی سے منع کیا تھا کہ اُن کی زندگی میں وہ یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گے۔ جس روز حسن کے والد نے احمد کے گھر پیسے بھجوائے، اُس سے اگلے روز اُستاد محترم نے احمد کو اپنے پاس بلایا اور اُسے کچھ پیسے دینے چاہیے، لیکن احمد نے انکار کر دیا۔پھر احمد نے اُستاد محترم کو سارا قصہ سنایا۔ جب اُستاد محترم نے سرفراز صاحب کا نام سنا،  تو وہ فوراً پہچان گئے۔ اُستاد محترم اور سرفراز صاحب ایک دوسرے کو اچھے طریقے سے جانتے تھے۔ اِس کے بعد اُستاد کو احساس ہوا کہ احمد کے مسئلے میں شاید حسن نے والد کو بتایا ہو اور یوں سرفراز صاحب کے ذریعے اُنہوں نے احمد کے گھر پیسے بھیجے ہوں۔ اُنہوں نے حسن کے والد کو کال کی اور جب اُنہیں ساری بات پتہ چلی، تو اُنہوں  نے حسن کے والد  سے کہا کہ میں ہر مہینے آپ کے ساتھ اس کارخیر میں شریک ہونا چاہتاہوں، لیکن  جب تک میں زندہ ہوں، آپ یہ راز کسی کو مت بتائے گا۔

حسن نے یہ بات اپنے والد سے اِس چھوٹی عمر میں سیکھ لی تھی کہ اپنے آس پاس والوں کا کس طرح خیال رکھنا ہے اور کس طرح دوسروں کی عزت نفس کو بھی برقرار رکھنا ہے۔



Wednesday, April 15, 2020

کامیابی کا راستہ۔قسط 1


آج وہ کامیاب انسان تھا۔ اُس کا دل خوشیوں سے بھرا ہوا تھا۔اُس نے اپنے خواب کی تعبیر پا لی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ اُس نے یہ خواب بچپن سے دیکھا ہو۔ انسان سکول کی ابتدائی زندگی میں کوئی بڑا خواب نہیں دیکھ پاتا، پھر کیسے یہ کامیابی حاصل کرے۔ سب اُس سے یہی پوچھتے تھے کہ وہ اِس مقام تک کیسے پہنچا۔ کامیابی کا راستہ اتنا سادہ نہیں ہوتا کہ ایک لفظ میں بیان کر دیا جائے۔ کامیابی کا راستہ ہر روز ایک نئی داستان کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ ہر روز انسان دو راستوں پر ہوتا ہے۔ ہر روز انسان کو کامیابی والا راستہ چننا ہے۔جب پہلے دن انسان کو کامیابی کے بارے میں پتہ ہی نہ ہو، تو کیا کرے! شاید اس کا جواب یہی ہےکہ انسان ہر روز  آنکھیں کھول کر گزارے۔ کبھی غفلت نہ کرے، بلکہ روزانہ اپنے حواس کو چوکنا کرے  اور چلنا شروع کردے۔ اُس کے بابا نے اُس کے لئے کامیابی کے راستے کو بیان کرنا آسان کر دیا تھا،کیونکہ وہ اُس کی زندگی کے ابتدائی دنوں سے ہی اُس کے لئے ڈائری لکھا کرتے۔ اِس لیے آج اِسے اپنے سکول کے پہلے دن کے بارے میں بھی پتہ تھا کہ وہ دن کیسے گزرا۔

ΩΩΩΩΩΩ

اُس کا نام حسن تھا۔ بچپن سے ہی اُس میں تجسس بھرا ہوا تھا۔ جب چھ سال کی عمر میں وہ پہلی دفعہ سکول گیا، تو پہلے ہی دن سکول کے پرنسپل اُس کی باتوں پر بہت حیران اور خوش ہوئے۔ وہ والد کے ساتھ پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوا تو پرنسپل صاحب نے اُس سے اُس کا نام پوچھا۔ حسن نے بہت اعتماد سے اپنا نام بتایا۔ پھر پرنسپل صاحب نے اُس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز اچھی لگتی ہے تو حسن نے جواب دیا کہ مجھے  چیزوں کو جاننے کا بہت شوق ہے۔ مجھے جو بھی چیز نظر آتی ہے، میں اُس کے بارے میں سوچنے لگ جاتا ہے۔ پرنسپل صاحب تھوڑا حیران ہوئے، پھر پوچھا! مثلاً ابھی تک کس چیز کے بارے میں کیا سوچا ہے، تو حسن کے پاس کہنے کےلئے ڈھیروں باتیں تھیں۔ حسن کہنے لگا مثلاً میرے گھر میں دو پودے  ہیں۔ ایک پودا بڑا ہے اور ایک چھوٹا۔ دونوں پودوں کے پتے کبھی کبھی زمین پر گرتے ہیں۔ عموماً جو پتے زمین پر گرتے ہیں اُن کا رنگ پھیکا ہوتا ہے۔ میرے بابا پودوں کوپانی بھی دیتے ہیں، لہذا انہیں پیاس بھی لگتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ہماری طرح کھانا بھی کھاتے ہیں، چونکہ کا قد بڑھ رہاہے۔ ‘ پرنسپل صاحب  بہت خوش ہوئے اور کہا کہ  آج آتے ہوئے کیا دیکھا۔ حسن کہنے لگا کہ میرے گھر  اور سکول کے درمیان  دس گھر ہیں۔ گھروں کے دروازے لکڑی کے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ بعض درختوں کی لکڑی سے دروازے بھی بن سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ میرے گھر اور سکول کے درمیان چار درخت بھی ہیں۔ دو درخت بڑے ہیں جبکہ باقی دو کا سائز میرے گھر کے پودوں جتنا ہے۔ ‘ بولتے بولتے حسن رکا تو  حسن کے بابا نے کہا کہ میں نے اِسے گھر پر گنتی سکھا دی تھی، اس کے علاوہ اردو کے حروف تہجی بھی سکھا دئیے ہیں۔ حسن کی باتوں نے پرنسپل کو حیران اور خوش کر دیا تھا۔ اُنہوں نے پہلی کلاس کے انچارج اُستاد کو بلایا اور اُنہیں حسن کے بارے میں بتایا۔ اُنہوں نے حسن کو پیار کیا اور اُسے اپنے ساتھ کلاس میں لے گئے۔

سکول کا پہلا دن  زیادہ اچھا نہ گزرا۔ بابا گھر چلے گئے اور وہ بابا کے بغیر سکول میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ کلاس کے سب بچے اپنی اپنی کتابیں کھولیں اردو کے حروف تہجی یاد کر رہے  تھے۔ بابا نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آج شام اُسے قاعدہ خرید کر دیں گے۔ لہٰذا کلاس میں بیٹھے بیٹھے اُس نے ایک ہم جماعت کے قاعدے سے دیکھنا شروع کیا۔ اُستاد محترم سب بچوں کو الف، ب پڑھا رہے تھے۔ حسن یہ سب پڑھ چکا تھا، البتہ یہ قاعدہ اُس کےلئے نیا تھا۔ اُس نے غور سے تصویریں دیکھنا شروع کر دیں۔ اُستاد پڑھا رہے تھے  ’ت سے تختی‘۔ تختی کی تصویر بھی بنی ہوئی تھی۔اُستاد نے حسن سے کہا کہ کل سے قاعدے کے ساتھ ساتھ تختی، قلم او ردوات بھی لانی ہے۔ تاکہ لکھنا بھی سیکھ سکیں۔ اُستا نے سبق پڑھا دیا تھا اور اب بچوں کی تفریح کا وقت ہو گیا۔ حسن کو موقع مل گیا۔اُس نے کمرے کو غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ جہاں اُستاد بیٹھے تھے اُس کی پچھلی دیوار پر ایک سفید رنگ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اُستاد کی کرسی کے سامنے میز تھا اور دونوں لکڑی سے بنے ہوئے تھے۔ حسن نے کلاس میں بینچ گننا شروع کیے۔ کل پندرہ بینج تھے اور پانچ پانچ کی تین لائنوں میں پڑے تھے۔ ہر بینچ پر دو بچوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ کمرے کی چھت سے ایک پنکھا لٹک رہا تھا۔ کمرے کی دو کھڑکیاں تھیں، جو سکول کے ساتھ والی گلی میں کھلتی تھیں۔ کھڑکھیوں میں لوہے کی جالی لگی ہوئی تھی۔ کھڑکھی سے باہر گلی کا منظر نظر آ رہا تھا۔ حسن نے کھڑے کھڑے بچوں کے بیگ گنے تو پتہ چلا کہ کلاس میں حسن سمیت بیس بچے ہیں۔ حسن اپنی اس عادت کی وجہ سے کبھی بور نہیں ہوتا تھا، اس لیے اُسے تفریح کا پتہ بھی نہ چلا  اور تفریح کا وقت گزر گیا۔ تفریح کے بعد اُستاد دوبارہ کلاس میں آ گئے۔

اُستاد نے دیکھ لیا تھا کہ حسن سب سے پہلے کلاس میں موجود تھا۔ جب سب بچے کلاس میں آ گئے تو استاد نے حسن سے پوچھا کہ تفریح کے وقت میں آپ باہر کیوں نہیں گئے۔ حسن نے جواب دیا کہ وہ کمرے میں ہی بیٹھنا چاہ رہا تھا۔ اُستاد نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تفریح بھی ضروری ہے۔ پڑھائی کے وقت پڑھائی اور تفریح کے وقت تفریح۔ آپ کو باہر جا کر کھیلنا چاہیے۔ جب آپ کھیلتے ہیں تو آپ کی صحت اچھی رہتی ہے۔ پھر جب دوبارہ پڑھنے بیٹھتے ہیں تو پڑھنے میں بہت مزہ آتا ہے۔ حسن نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ ہم جماعت دوستوں کے ساتھ کھیلےگا۔

سکول سے گھر آنے کے بعد حسن نے کھانا کھایا اور تھوڑی دیر آرام کیا۔ شام کو بابا اُسے بازار لے گئے۔ بازار سے اُنہوں نے بیگ، قاعدہ، تختی، قلم اور دوات خرید لی۔ دکان سے نکلنے سے پہلے بابا نے حسن کو بتایا کہ جب بھی کوئی چیز خریدیں، دکان سے نکلنے سے پہلے اُسے اچھی طرح دیکھ لیں۔ اگر کسی چیز میں کوئی خرابی ہو، تو ادھر ہی دکان پر تبدیل کرا لیں۔ اگر گھر جا کر پتہ چلے گا، تو پھر دکان پہ واپس آنا پڑے گا اور وقت ضائع ہو گا۔ حسن نے بیگ، تختی اور قلم دوات کو اچھی طرح دیکھا۔ سب چیزیں ٹھیک تھیں۔ بابا نے دکاندار کو پیسے دئیے اور دونوں گھر کے لئے چل دئیے۔ رات کے کھانے کے بعد حسن کی والدہ نے اُس کا بیگ تیار کر دیا اور اُس کے کپڑے بھی ترتیب سے رکھ دئیے تاکہ صبح دیر نہ ہو۔ حسن سکول کے اگلے دن کے بارے میں سوچتے سوچتے سو گیا۔