بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہمارے معاشرے کا ایک عمومی مزاج ہے جس میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ایک شخص صاحب اولاد ہو جاتا ہے تو وہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ بس اب جو کرنا ہے، بچوں کے لئے ہی کرنا ہے۔ یہ فقط دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں ماں باپ اپنے آپ کو بچوں کے لئے وقف کر دیتے ہیں، اُن کی زندگی کے تمام چھوٹے بڑے فیصلے بچوں کو سامنے رکھ کر ہوتے ہیں، اُن کی تمام کوششوں اور جدوجہد کا مرکز اُن کے بچے ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ موضوع اپنی جگہ کہ وہ کیا وہ بچوں کی ہر طرح کی ضروریات کو سامنے رکھ کر یہ کام کر رہے ہوتے ہیں یا اُس میں بھی بچوں کے فقط چند مسائل ہیں، جنہیں سامنے رکھا جاتا ہے اور باقی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
خداوند متعال نے انسان کو اپنی بندگی اور عبودیت کے لئے پیدا کیا ہے۔ انسان کے ہر فیصلے میں خدا کی مرضی کو سامنے رکھا جانا چاہیے۔یہ درست ہے کہ انسان اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار ہے لیکن انسان فقط اس ایک فریضے کی ادائیگی کے لئے دنیا میں نہیں آیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے انسان یہ فرض کر لے کہ وہ ساری عمر نماز ہی پڑھے گا اور باقی کوئی کام نہیں کرے گا۔ وہ صبح شام واجب اور مستحب نمازیں پڑھتا رہتا ہے لیکن کیا اس سے وہ باقی فرائض سے جان چھڑا سکتا ہے؟
اولاد کا اپنا مقام ہے اور اُس حوالے سے جو فرائض ہیں انہیں انجام دینا ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلی دینی ذمہ داری پر کام کرنا ضروری ہے۔آپ چاہیے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، کسی بھی کاروبار یا ملازمت سے وابستہ ہوں، یاد رکھیں آپ کی حقیقی ذمہ داری خدا کی بندگی ہے اور اس کا راستہ ہمیں انبیاء نے دکھایا ہے۔ انبیاء کی آمد کا ایک مقصد معاشرے میں عدالت کا قیام ہے لیکن قیام براہ راست نہیں ہے۔معاشرے کو ظلم سے نجات دینے اور عدالت کی طرف لے جانے میں تزکیہ، تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے۔ اپنے روزمرہ کی مصروفیات اور خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اِن اہداف کے لئے منصوبہ بندی کریں، وقت، توانائی اور وسائل خرچ کریں۔
خوب
ReplyDelete