Thursday, August 31, 2023

کیا شوہر اور زوجہ کے درمیان عزت و احترام کا رشتہ ضروری ہے؟ یہ کام کیسے ہوگا؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شوہر اور زوجہ کا ایک دوسرے کا احترام کرنا

 

سوال: ایک دوسرے کا احترام کیسے کیا جائے؟ کیا دینی نگاہ سے یہ لازم ہے کہ شوہر اور زوجہ ایک دوسرے کا احترام کریں۔احترام سے مراد کیا ہے؟

جواب: قرآنی تعلیمات میں انسان کی خلقت کا مقصد خداوند متعال کی عبودیت اور بندگی ہے۔ انسان اس عالم میں خلق ہوا ہے تاکہ اپنے ارادے اور اختیار سے خدا کی جانب سفر طے کر سکے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون (زاریات۔آیت 56)۔ یعنی ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر صرف بندگی کے لئے۔اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہر انسان، انسان ہونے کی حیثیت میں اور خلقت میں برابر ہے۔ کوئی اِس وجہ سے کمتر نہیں کہ وہ عورت ہے یا کوئی اِس وجہ سے برتر نہیں کہ مرد پیدا ہوا ہے۔ یہ فضیلت کا معیار ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم نے جو معیار بتایا ہے وہ تقویٰ ہے۔ چونکہ مرد پیدا ہونے میں خود مرد کا اختیار نہیں ہے اور عورت پیدا ہونے میں عورت کا ارادہ شامل نہیں ہے۔ عزت و احترام کا حقدار جس قدر مرد ہے، اُسی قدر عورت بھی ہے۔

 

2۔ احترام سے مراد یہ ہے کہ انسان دوسرے کی عزت نفس اور وقار کا خیال رکھے۔ تنہائی میں ہوں یا دوسرے لوگوں کے سامنے، ایک دوسرے کے لئے اچھے الفاظ استعمال کریں۔ ایک دوسرے کو برے نام سے پکارنا یا گالی دینا سختی سے منع ہے۔ ایسے ماحول میں بچوں پر کیا اثر پڑے گا جہاں والدین ہی آپس میں احترام نہ کرتے ہوں یا ایکد وسرے کے ساتھ نامناسب الفاظ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوں!

 

3۔ انسانی تربیت میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان دوسرے کا احترام کرے۔ اگر شوہر چاہیے کہ زوجہ کی تربیت کرے یا زوجہ چاہیے کہ شوہر کی تربیت کرے تو احترام کا رابطہ ضروری ہے۔ ضد، گالی گلوچ، ہر وقت طنز  سے بات کرنا، اس سے تربیت نہیں ہو سکتی۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ میاں بیوی سو فیصد ایک جیسا سوچتے ہوں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر دوسرا ہم سے مختلف سوچتاہے تو یہ کوئی برائی نہیں ہے۔ انسان کا مزاج، پسند ناپسند مختلف ہو سکتا ہے۔ میاں بیوی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو اپنی پسند و ناپسند پر مجبور نہ کریں بلکہ زیادہ تر ایسے موضوعات میں مشترکہ پہلو تلاش کریں ۔ ایک دوسرے کی خاطر اپنی پسند و ناپسند سے گزرنا بھی ایثار اور احترام کی علامت ہے۔

 

4۔ عزت و احترام کا رشتہ صرف اپنے سے بڑے سے نہیں ہوتا بلکہ ہر انسان کے ساتھ یہی طریقہ کار ہونا چاہیے۔ حتیٰ بچوں کو بھی احترام دیں اس کے تربیتی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ بچوں کی کسی بات کو ہنسی مذاق کا نشانہ بنا لینا اور اُسے ہمیشہ احساس دلانا کہ فلاں وقت میں تم نے فلاں احمقانہ بات کی تھی، شخصیت شکنی کی بدترین مثال ہے۔  

No comments:

Post a Comment