بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعلیم و تربیت کے لئے تین چیزیں جاننا ضروری ہیں۔ 1۔ انسان شناسی۔ یعنی جس انسان کی تربیت کرنا چاہتے ہٰیں اُس کی کیا خصوصیات ہیں؟
البتہ اس مسئلے میں معرفت، شناسی، جہان شناسی اور خدا شناسی مقدم ہیں۔ معرفت شناسی یعنی یہ جو ہم علم حاصل کرتے ہیں اس کا اعتبار کتنا ہے۔ جہان بینی یعنی ہم جہان کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں۔ کیا جہان فقط مادی ہے اور ظاہری آنکھ سے نظر آنے والا ہی جہان ہے یا اِس کے پس پردہ کچھ اور حقیقتیں بھی ہیں جنہیں ہم اپنی ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ خدا شناسی یعنی اگر ہم اس بات کے قائل ہو گئے کہ اِس کائنات کو کوئی بنانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے اور وہ خدا ہے تو پھر خدا سے متعلق جاننا ہوگا۔ اگر کائنات میں ایسا کوئی خدا ہے تو کیا اس نے اپنی مخلوقات سے رابطے کے لئے کوئی طریقہ کار رکھا ہے یا نہیں۔ تاریخ بشریت گواہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ آتے رہے جو یہ دعوی کرتے رہے کہ وہ خدا کے نمائندے ہیں۔ اس کے بعد جب ہم اس بات کے قائل ہو جاتے ہیں کہ اسلام ہی دین خاتم ہے اور دین اسلام ہی بنیاد ہے تو ہم اس بنیاد پر انسان شناسی تک پہنچتے ہیں۔ یعنی دیکھتے ہیں کہ دین اسلام کی نظر میں یہ انسان کیسا ہے؟ اِس کی کیا صفات ہیں۔
2۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جان لیں کہ آئیڈیل انسان کیسا ہے؟ دین اسلام کے نزدیک ایک کامل انسان، ایک مکمل انسان کیسا ہوگا۔ ایک کمال یافتہ انسان کیسا ہوگا؟ جب تک یہ بہترین طریقے سے نہ سمجھ لیں تعلیم و تربیت کا عمل ناقص رہ جائے گا۔
3۔تیسر امسئلہ تعلیم و تربیت سے متعلق ہے یعنی انسان موجود سے انسان مطلوب بنانے کے لئے کس طرح کی تعلیم و تربیت ضروری ہے۔
No comments:
Post a Comment