Wednesday, August 30, 2023

پہلے سات سالوں میں بچوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اپنایا جائے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پہلے سات سالوں میں بچوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اپنایا جائے۔

1۔ بچہ اُن باتوں سے کم سیکھتا ہے جو اُسے کہی جاتی ہیں اور اُس سے زیادہ سیکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے۔ لہٰذا گھر کے ماحول میں بچے کے سامنے ہمیشہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے سے پیش آیا جائے۔ اگر زوجہ، اپنے شوہر کا احترام کرتی ہو، اُس کے سامنے چیخ کر نہ بولے، الفاظ کا مناسب انتخاب کرے اور اِسی طرح شوہر بھی اپنی زوجہ کو عزت و احترام دے، اُس کی عزت نفس کا خیال رکھے، اُسے اپنی کنیز نہ سمجھے تو بچہ اِس سے بہت مثبت اثر لے گا۔

2۔ بچے کی زندگی کے پہلے سال میں وہ زبان نہیں سمجھتا۔ وہ آپ کے چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کے لمس سےہی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے جب  اس عمر میں بچے بے چین رہتے ہیں تو مائیں غصے میں آ کر اُن پر چیختیں ہیں، یہ چیخنا چلانا کبھی بھی بچے پر مثبت اثر نہیں ڈال سکتا۔

3۔ اگرچہ بچے کے پہلے سات سالوں میں بچے پر سختی نہیں کر سکتے، جسمانی سزا کا تو تصور بھی نہیں ہے لیکن بچے کے پہلے تین سال اور اگلے چار سالوں میں والدین کے رویے میں فرق ہوگا۔

مثلاً تین سال سے کم عمر بچہ دلیل نہیں سمجھ سکتا۔ مثلاً وہ چاہتا ہے کہ بجلی کی تاروں کو ہاتھ لگائیں یا چھری چاقو سے کھیلنا چاہتا ہے۔ جب بچہ اس طرح کا کام کرنے لگے تو دو کام کریں: ایک تو اُسے بالکل موقع نہ دیں کہ وہ ایسا کام کرے۔ یعنی فوراً اُس سے وہ چیز دور کریں یا لے لیں۔ یہ کام کرتے ہوئے چیخنے، چلانے یا ڈرانے دھمکانے کی ضرورت نہیں۔ خاموشی سے وہ چیز دور کر دیں۔ دوسرا یہ کہ بچے کو کسی اور کام میں ضرور لگائیں۔ کسی کھیل میں لگا دیں۔ خود کھیلنے لگ جائیں۔ جب تک اُس کی توجہ مکمل طور پر نہیں ہٹ جاتی، اُسے کوئی نہ کوئی سرگرمی دیں۔

چار سال اور اس سے بڑا بچہ کسی حد تک بات سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ کوشش کریں کہ اس بچے سے ڈسکشن کے ذریعے اور گفتگو کے ذریعے باور کروائیں کہ فلاں چیز نقصان دہ ہے۔

4۔اس عمر میں بچہ شرارتیں کرتا ہے۔اُن کی بے ضرر شرارتوں پر بالکل پریشان نہ ہوں۔ بچے کو ہر وقت ٹوکنا، غصے سے ڈانٹنا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ بچے اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی شرارتیں جو خطرناک ہیں، کوشش کریں کہ اُن کا متبادل دیں۔ یعنی بچے کے لئے کھیلنے کا سامان یا سرگرمی ہونی چاہیے۔

5۔ اِس عمر میں ضروری ہے کہ بچہ والدین سے ہر بات شیئر کرے۔ بچے کا بھرپور خیال رکھیں ، اگروہ محلے میں اکیلا دکان پر جاتا ہے (اگرچہ کوشش کریں کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ وہ اکیلا دکان پر جائے۔ چونکہ دکان کی چیزوں کی عادت بھی بچوں کے لئے نقصان دہ ہے) تو اُس کا خیال رکھیں۔۔اگر بچہ کسی بھی اجنبی یا جاننے والے  کے رویے کو نامناسب سمجھے تو والدین سے ذکر کرے گا۔اس سے کسی حد تک بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment