بسم اللہ الرحمن الرحیم
قرآن کریم، سورہ تحریم کی آیت نمبر 6 میں ارشاد ہوتا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جن پر وہ ملائکہ معین ہوں گے جو سخت مزاج اور تندوتیز ہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اُسی پر عمل کرتے ہیں ۔
اِس آیت کا مخاطب صرف مرد نہیں ہیں بلکہ خواتین بھی ہیں۔ یعنی جس قدر مرد اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کا ذمہ دار ہے، اُتنا ہی خاتون بھی ذمہ دار ہے۔
جہنم کی آگ سے زبردستی نہیں بچایا جا سکتا کیونکہ اگر ایسا ہو سکتا تو حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو بچا لیتے۔ آگ سے بچانے کے لئے تعلیم و تربیت ہے۔ضمنا یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ تعلیم و تربیت کے نتیجے میں اگر کوئی سیدھے راستے پر نہیں آتا تو ضروری نہیں کہ اس سے تعلیم و تربیت کرنے والا ہی ذمہ دار ہو۔ بعض اوقات انسان اپنے اعمال کے سبب ہدایت پانے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ شاید انہی افراد کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کےآنکھوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے۔
اِس آیت میں ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان اپنے آپ کا ذمہ دارہے۔ پہلے اپنی فکر کریں۔ پہلے اپنی تربیت کریں۔ پہلے اپنا راستہ درست کریں، اپنا اخلاق، اپنے اعمال ٹھیک کریں۔ اپنے نقائص اور کمزوریوں پر قابو پائیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو کام ہم خود کرتے ہوں، بچوں کو اُس سے منع کر سکیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ آگ سے بچانے کا عمل کب ہوگا؟ یقینا جنت جہنم کا فیصلہ قیامت کے دن ہے لیکن وہ اِس دنیا میں انجام پانے والے اعمال کی بنیاد پر ہے۔ لہٰذا جب کہا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسے زندگی گزاریں کہ جہنم کی آگ کے حقدار نہ بنیں۔ ایسی زندگی گزاریں جس طرح خدا چاہتا ہے۔ ایسی زندگی گزاریں جس طرح انبیاء اور ائمہ علیھم السلام نے گزاری۔ فقط روٹین کی زندگی گزار لینے سے اور اپنی ذات کے گرد چکر لگانےسے یہ کام نہیں ہو سکتا۔
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت پر عمل کرنے کے لئے کیا چیز مقدمہ بن سکتی ہے؟ ایک چیز جو ضروری ہے وہ یہ کہ انسان یہ سیکھے کہ کس طرح اپنی تربیت کرے اور کیسے دوسروں کی تربیت کرے۔ جب تک ہم اِن موضوعات پر اپنی معلومات نہیں بڑھائیں گے، اپنی مہارت نہیں بڑھائیں گے یہ کام اچھے طریقے سے نہیں کر سکتے۔
No comments:
Post a Comment