Sunday, September 3, 2023

بچوں کی غلطیوں پر غصے میں آنا

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچوں کی غلطیوں پر غصے میں آنا

 

انسانی جذبات مثبت یا منفی نہیں ہوتے۔ اِن کا ہونا بالکل فطری ہے۔کسی بھی غلط بات پر غصہ آنا فطری ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ غصہ بری چیز ہے تو دراصل یہ خود غیر فطری بات ہے۔ جذبات اور احساسات انسانی شخصیت کا حصہ ہیں اور ان کےبغیر انسان، انسان نہیں رہتا۔اصل مسئلہ جذبات اور احساسات کے اظہار پر کنٹرول کا ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کو بھی غصہ آتا تھا لیکن رسول اللہﷺ ہمیشہ اُس کےاظہار میں کمال رکھتے تھے۔ امیر المومنینؑ کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک جنگ کے دوران جب اُنہوں نے اپنے مخالف کو زمین پر گرا دیا تو اُس نے آپؑ کے چہرہ مبارک پر لعاب دہن پھینک کر غصہ دلایا۔ تو آپؑ فوراً اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اُسے چند لمحوں کے لئے چھوڑ دیا۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی کسی کی بھی توہین کرتا ہے تو اُسے غصہ آنا فطری ہے۔ غصہ آئے گا لیکن غصے میں انسان کیا ردعمل دکھاتا ہے یہ اہم ہے۔ اِس ردعمل کو کنٹرول کریں تو بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

 

معمولاً بچوں کی شرارتوں پر والدین کو غصہ آتا ہے تو وہ پہلے مرحلے میں چیخ کر بولتے ہیں، اس کے بعد ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو روٹین میں استعمال نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی بات جسمانی سزا تک پہنچ جاتی ہے۔

سورہ یوسف کی تلاوت کریں تو ہمیں ایک نکتہ بہت اچھی طرح دکھائی دیتاہے اور وہ حضرت یعقوبؑ کا اپنے بیٹوں سے گفتگو کا طریقہ کار ہے۔ یعنی وہ اُن بیٹوں کے ساتھ جنہوں نے یوسف کو اُن سے جدا کیا اور جس کی جدائی میں روتے روتے اُن کی آنکھیں سفید ہو گئیں لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی جب وہ اپنے بیٹوں کو مخاطب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: یا بنی۔ یعنی اے میرے بیٹو۔ عربی میں یہ لفظ اُس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی بہت محبت کے ساتھ پکارتا ہے۔ آپ سورہ یوسف دیکھیں۔ اکثر جگہوں پر آپ حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو اسی طرح پکارا ہے۔

ہمارے بچوں کی شرارتیں حضرت یعقوبؑ کے بیٹوں کے جرم سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ اُن کی شرارتوں پر کوشش کریں کہ آواز بلند نہ ہو، ایسے الفاظ استعمال نہ ہوں جس سے اُس پر برا اثر پڑے اور کبھی بھی جسمانی سزا کی طرف نہ جائیں۔ بچپن میں ہم اُن کی جس طرح سے شخصیت تعمیر کریں گے، اُس کا اثر اُن کی اس دنیا اور قیامت کے بعد کے حالات و واقعات تک جاتا ہے۔ اِس لئے کچھ ایسا کریں کہ تربیت میں محبت اور احترام زیادہ سے زیادہ ہو۔

1 comment:

  1. R isi ghussay ki halat m aksar parents apnay bachon ko shetan keh detay hn...which is totally unethical..
    Thanks for sharing such an informative write up...
    Jzaak Allah

    ReplyDelete