بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچوں کو خود اعتمادی کیسے دیں؟
زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لئے خود اعتمادی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بچوں میں خود اعتمادی پیدا
کرنے میں اہم بات یہ ہے کہ اِس پر زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہی کام ہونا چاہیے۔ ہمارا عمومی رویہ
ہوتا ہے کہ جب بچہ پہلے سات سال کے مرحلے میں ہوتا ہے تو اُسے کسی قدر پیار ملتا
ہے، جب وہ کوئی بات کرنے لگتا ہے تو اُس کی بات سنتے ہیں لیکن جیسے جیسے یہ بچہ بڑا
ہوتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ نہ بولے۔ اُسے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑوں کے معاملات میں
نہ بولے۔ اُس کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہاری
مرضی، تمہاری رائے بالکل اہم نہیں۔ وہ جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو اکثر اوقات اُس
کی بات کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔
خود اعتمادی دینے کے لئے ضروری ہے کہ بچے کو بات کرنے کا،
اظہار کرنے کا موقع دیا جائے۔ وہ جب بول رہا ہو تو اُسے یہ خطرہ نہ ہو کہ اُسے
فوراً ہی ڈانٹ دیا جائے گا۔ ممکن ہے بچہ کوئی ایسی اچھی بات کرے جو ابھی اُس میں
پیدا نہیں ہوئی ہو، اس کے جواب میں اُسے طنز کے ذریعے احساس دلانا کہ تم خود تو
ایسے نہیں ہو، یہ اُس کی خود اعتمادی ختم کر دینے کے مترادف ہے۔
بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہےوالدین اپنا کنٹرول بڑھاتے جاتے
ہیں۔ ممکن ہے والدین کی یہ کوشش اس وجہ سے ہو کہ اُن کی نظر میں اب اُس کا گمراہ
ہونا، بری عادتوں میں پڑنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ کنٹرول کی شدت اس بات کا
باعث بنتی ہے کہ بچے اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ اگر والدین سے
کوئی بات کرنا بھی چاہیے، کچھ شیئر کرنا بھی چاہیے تو نہیں کرے گا۔ اُسے نہ خود پر
اعتماد ہو گا اور نہ والدین پر کہ اُس کی بات کو سمجھا جائے گا۔ کنٹرول اپنی جگہ
پر ضروری ہے لیکن والدین اور بچوں کے درمیان
فاصلے کا کم ہونا اور والدین کا اپنے بچوں
کو پر اعتماد کرنا بھی ضروری ہے۔ گھر کے مسائل میں بچوں سے رائے لینا، اپنی رائے دینے
سے پہلے بچوں کی رائے لینا، روٹین کے معمولی فیصلوں میں اُسے اختیار دینا بھی بچوں
میں خود اعتمادی بڑھاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment