بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال: کیا تعلیم و تربیت کے شعبے میں ہماری مہارت رکھنا ضروری ہے؟
جواب: بالکل ضروری ہے۔ دین نے انسان سے یہ نہیں چاہتا کہ فقط اپنی فکر کرے اور باقی دنیا کو فراموش کر کے خدا کو پانے کی جستجو کرے۔ خدا چاہتا ہے کہ خود انسان بھی راہ ہدایت پر ہو اور پھر دوسروں کی ہدایت کرے۔ اِس کے لئے اپنی تربیت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی تربیت کی ذمہ داری بھی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ ذمہ داری رسمی ہو یعنی کوئی سکول، کالج یا یونیورسٹی ہو، کوئی تنظیم ہو۔ جس طرح اپنی تربیت کے لئے انسان کو کسی کلاس کے لئے جانے کی ضرورت نہیں بلکہ بغیر کسی رسمی کلاس کے اپنی تربیت کر سکتا ہے اِسی طرح دوسروں سے معاملات انجام دیتے ہوئے، دوسرے افراد سے رابطہ رکھتے ہوئے، کاروبار میں یا ملازمت کی جگہ پر اپنا رویہ ایسا رکھ سکتا ہے کہ دوسرے لوگ آپ سے کچھ سیکھ رہے ہوں اور اپنی زندگی میں بہتری لا رہے ہوں۔
سوال: کیا تعلیم و تربیت ہماری دینی ذمہ داری ہے؟
جواب: سو فیصد دینی ذمہ داری ہے۔ قرآن کریم میں چار مقامات پر انبیاء کے کام کا ذکر ہوا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ انبیاء لوگوں کا تزکیہ کرتے، کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے تھے۔ اگر ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہے اور معاشرے کو بدلنا ہے تو انبیاء کے طریقہ کار کی پیروی کرنا ہوگی۔ ہمیں بھی انبیاء کے طریقے سے ہی معاشرے میں کام کرنا ہوگاتاکہ نتائج لے سکیں۔
سوال: میرا کاروبار، مشغلہ یا ملازمت تعلیم و تربیت سے مربوط نہیں ہے تو میں اپنی ذمہ داری کیسے ادا کروں؟
جواب: ٹھیک ہے آپ مستقل طور پر کسی کام کو انجام نہیں دے سکتے تو کم از کم یہ کام کر سکتے ہیں:
1۔ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی جو اس شعبےسے مربوط ہیں۔ اُن کی اخلاقی اور مالی حمایت کے ذریعے مدد ہو سکتی ہے۔
2۔ تعلیم و تربیت کے شعبے میں ایسے کاموں کی ضرورت کی تشخیص کر کے جن پر بالکل کام نہیں ہو رہا، اُس کام کے لئے وسائل جمع کرنا اور ماہرین کے ذریعے اُس کام کو تکمیل تک پہنچانا۔
3۔ اگر معاشرے میں تعلیم و تربیت کے ماہرین کی ضرورت ہے تو اپنے بچوں کے کیرئیر کے انتخاب میں اس بات کو مدنظر رکھنا۔
No comments:
Post a Comment