Wednesday, August 30, 2023

بچوں کے لئے زندگی گزارنا

 بسم اللہ الرحمن الرحیم


ہمارے معاشرے کا ایک عمومی مزاج ہے جس میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ایک شخص صاحب اولاد ہو جاتا ہے تو وہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ بس اب جو کرنا ہے، بچوں کے لئے ہی کرنا ہے۔ یہ فقط دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں ماں باپ اپنے آپ کو بچوں کے لئے وقف کر دیتے ہیں، اُن کی زندگی کے تمام چھوٹے بڑے فیصلے بچوں کو سامنے رکھ کر ہوتے ہیں، اُن کی تمام کوششوں اور جدوجہد کا مرکز اُن کے بچے ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ موضوع اپنی جگہ کہ وہ کیا وہ بچوں کی ہر طرح کی ضروریات کو سامنے رکھ کر یہ کام کر رہے ہوتے ہیں یا اُس میں بھی بچوں کے فقط چند مسائل ہیں، جنہیں سامنے رکھا جاتا ہے اور باقی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ 

خداوند متعال نے انسان کو اپنی بندگی اور عبودیت کے لئے پیدا کیا ہے۔ انسان کے ہر فیصلے میں خدا کی مرضی کو سامنے رکھا جانا چاہیے۔یہ درست ہے کہ انسان اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار ہے لیکن انسان فقط اس ایک فریضے کی ادائیگی کے لئے دنیا میں نہیں آیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے انسان یہ فرض کر لے کہ وہ ساری عمر نماز ہی پڑھے گا اور باقی کوئی کام نہیں کرے گا۔ وہ صبح شام واجب اور مستحب نمازیں پڑھتا رہتا ہے لیکن کیا اس سے وہ باقی فرائض سے جان چھڑا سکتا ہے؟ 


اولاد کا اپنا مقام ہے اور اُس حوالے سے جو فرائض ہیں انہیں انجام دینا ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلی دینی ذمہ داری پر کام کرنا ضروری ہے۔آپ چاہیے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، کسی بھی کاروبار یا ملازمت سے وابستہ ہوں، یاد رکھیں آپ کی حقیقی ذمہ داری خدا کی بندگی ہے اور اس کا راستہ ہمیں انبیاء نے دکھایا ہے۔ انبیاء کی آمد کا ایک مقصد معاشرے میں عدالت کا قیام ہے لیکن قیام براہ راست نہیں ہے۔معاشرے کو ظلم سے نجات دینے اور عدالت کی طرف لے جانے میں تزکیہ، تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے۔ اپنے روزمرہ کی مصروفیات اور خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اِن اہداف کے لئے منصوبہ بندی کریں، وقت، توانائی اور وسائل خرچ کریں۔ 

1 comment: