بسم اللہ الرحمن الرحیم
کامیابی کا راستہ۔2
(تحریر: عزادار حسین)
کامیابی خود چل کر کبھی انسان کے پاس نہیں آتی۔ ہمیشہ
انسان کو کامیابی کے راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ راستے کی تکلیفوں کو برداشت کرنا
پڑتاہے۔ دوسروں کی تکلیفوں کا احساس کرنا ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے درد سہنا پڑتا
ہے۔ لوگ بلاوجہ حسن سے محبت نہیں کرتے تھے۔ حسن نے کچھ ایسا کیا تھا، جو دنیا کے
پیچھے بھاگنے والے نہیں کر سکتے۔
حسن پہلے دن سے ایسا نہیں تھا، لیکن اللہ نے اُسے جو دوست دئیے، جو اُستاد دئیے،
اُنہوں نے اُسے اِس راستے پر چلنے میں راہنمائی کی۔ ایسا ہی ایک قصہ اُس نے ڈائری میں دیکھا، جو
بابا نے اُس کے بچپن میں اُس کےلئے لکھی تھی۔
ΩΩΩΩΩΩ
حسن کی آنکھوں میں
آنسو تھے، وہ بولنا چاہ رہا تھا لیکن بول نہیں پا رہا تھا۔ اُس کےوالد نے پیار سے
اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے! بیٹا، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے، میں تو تمہارے
دوست جیسا ہوں۔‘ یہ بات درست بھی تھی، حسن کے والد ہمیشہ اُس کے لئےایک دوست کی طرح رہے۔ حسن اپنی ہر بات اُنہیں
بتاتا۔ حسن کے والد کہا کرتے تھے کہ بیٹوں کے والد دوست ہوتے ہیں اور بیٹیوں کے
لئے والدہ دوست کی طرح ہوتی ہیں۔ اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت اچھے دوست کا ہونا ہے۔ اگر انسان اپنے والدین سے دوستی کر
لے، تو کبھی ٹھوکر نہ کھائے۔ اُس دن بھی حسن نے اپنے والد کو سب کچھ بتا دیا اور اِس واقعہ نےحقیقت میں اُس کی زندگی بدل
ڈالی ۔پھر حسن بتانے لگا:
’آپ میری عادت جانتے ہیں، میں اپنے ماحول کو اچھی طرح
دیکھتا ہوں اور کسی چیز سے لاتعلق ہو کر نہیں گزرتا ۔پچھلے دنوں میں نے سکول جاتے ہوئے ایک چڑیا کے بچے کو زمین
پر گرے ہوئے دیکھا، جس نے ابھی اڑنا نہیں سیکھا تھا۔ چڑیاں بھی شور مچا رہی تھیں۔میں نے چڑیا کے
بچے کو اٹھایا اور کچھ کوشش کے بعد چڑیا کا گھونسلا ڈھونڈ نکالا اور وہاں بچے کو
رکھ دیا۔ اِس وجہ سے میں سکول سے بھی تھوڑا لیٹ ہو گیا۔ اُستاد محترم نے مجھ سے
لیٹ آنے کی وجہ پوچھی، تو میں نے اُنہیں واقعہ سنا دیا۔ وہ سن کر مسکرائے اور
بولے: پودوں اور پرندوں کا خیال رکھنا بہت اچھا ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے گرد رہنے
والوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ہو سکتا ہے کوئی مشکل میں ہو اور اُسے ہماری مدد
کی ضرورت ہو۔‘ میرے لیےاُستاد کا اشارہ ہی کافی تھا۔ ایک دن میں نے اپنے دوست احمد کو دیکھا، تو
مجھے احساس ہوا کہ اُس کے گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ اُسے لباس اور جوتوں سے بھی
بہت کچھ واضح تھا۔وہ اکثر بیٹھے بیٹھے کھو جاتا ہے۔ اگرچہ وہ کلاس میں یہ ظاہر
نہیں ہونے دیتا تھا اور نہ ہی کبھی اُس نے کسی قسم کی ایسی بات کی، لیکن کافی حد تک یقین ہو گیا کہ اُن کے گھر کے حالات
یقیناً اچھے نہیں ہیں۔ چند دن پہلے میں نے اُس سے پوچھا تو اُس نے بتایاکہ اُس کے
والد ایک سال پہلے فوت ہو چکے ہیں۔وہ اپنی
والدہ اور ایک چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک
چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں ۔ احمد گھر کا خرچہ چلانے کے لئے ایک ورکشاپ میں کام
سیکھ رہا ہے۔ ورکشاپ کا مالک اُسے تھوڑے بہت پیسے دیتا ہے، جس سے گزارہ ہو رہا
ہے۔‘
’آج جب تفریح کا وقفہ ہوا، تو میں نے دیکھا کہ حسن کی
طبیعت خراب ہے۔ اُسے چکر آ رہے تھے۔ میں نے اُستاد محترم کو بتایا تو اُنہوں نے
ایک ڈاکٹر کو بلوا کر اُس کا چیک اپ کروایا۔ احمد نہیں بتا رہا تھا، لیکن اُستاد
نے بالآخر اُس سے پوچھ ہی لیا۔ احمد کے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ رات سے
اُس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔‘ حسن بتاتے بتاتے پھر رونے لگا۔ حسن کے والدنے اُس سے
کہا کہ احمد کی مشکل حل ہو جائےگی، لیکن تمہیں ایک وعدہ کرنا پڑے گاکہ تم کبھی یہ
بات کسی کو نہیں بتاؤ گے۔ حسن نے وعدہ کیا۔ پھر اُس کے والد نے اُس سے کہا کہ وہ
کھانا کھا لے تو پھر چلتے ہیں۔
کھانے کے بعد حسن
کے والد اُسے ماموں کی طرف لے گئے۔ اُس کے
ماموں، سرفراز صاحب محکمہ ڈاک میں کام کرتے تھے۔ حسن کے والد نے اُنہیں احمد کے متعلق سب کچھ بتایا اور اِس
کے بعد اُنہیں اس مسئلے کا حل بھی بتایا ۔ سرفراز صاحب نے بھی حسن کے والد کی بات
قبول کر لی۔ حسن سب کچھ سننے کے بعد بہت خوش ہوا۔ بابا نے کچھ پیسے ماموں کو دئیے۔
ماموں نے فوراً ہی مخصوص لباس پہنا اور گھر سے نکل گئے۔ حسن بھی اپنے والد کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔
ΩΩΩ
احمد کے گھر دروازے
پہ دستک ہوئی۔ آج طبیعت کی خرابی کی وجہ سے احمد گھر پر ہی تھا۔ اُستاد
محترم اُسے کھانے پینے کا سامان دے کر گھر
بھیج دیا تھا۔ احمد نے دروازہ کھولا تو
ایک محکمہ ڈاک کی وردی پہنے ایک شخص کھڑا تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس کا نام سرفراز
ہے اور وہ محکمہ ڈاک کی طرف سے آیا ہے۔اُنہوں نے احمد سے اُس کا نام اور والد کا نام پوچھا اور ایک فارم میں لکھ لیا۔ پھر اُنہوں نے
احمد سے کہا کہ والد یا والدہ کو
بھیجو۔احمد کی والدہ دروازے پہ آئیں تو
سرفراز صاحب نے بتایا کہ حکومت
نےایک سکیم شروع کی ہے اور اس سکیم کے تحت سکولوں کے کچھ اچھے بچوں کا انتخاب کیا
گیا ہے، جو بہت لائق ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ یہ بچے بغیر کسی مشکل کے تعلیم حاصل
کرتے رہیں، لہٰذا اگر انہیں ضرورت ہے تو
انہیں ماہانہ خرچ دیا جائے۔ احمد کی والدہ
نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اُن کی گزر بسر ہو رہی ہے اور اُنہیں کسی چیز کی
ضرورت نہیں۔ جب سرفراز صاحب نے احمد کی والدہ سے پوچھا کہ اُن کے شوہر کیا کرتے ہیں، تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ فوت ہو
چکے ہیں۔ اس کے بعد سرفراز صاحب نے کہا کہ پھر تو اُنہیں لازماً
یہ مدد لینی پڑے گی۔ چونکہ حکومت کی طرف سے سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ جن
بچوں کے والد فوت ہو چکے ہیں، اُنہیں ضرورت ہو یا نہ ہو، اُنہیں ماہانہ خرچ دیا
جائے گا۔ لہٰذا یہاں ایک فارم پر سائن کریں۔ ایک فارم پر احمد کی والدہ نے سائن
کیے ۔ اس کے بعد سرفراز صاحب نے اُنہیں کچھ پیسے دئیے اور کہا کہ وہ خود ہر مہینے
یہ پیسے پہنچانے آئیں گے۔ احمد کی والدہ نے اُن
کا شکریہ ادا کیا اور وہ خدا حافظ کہہ کر چلے گئے
ΩΩΩ
حسن بہت عرصہ سوچتا رہا کہ اُس کے بابا کی آمدنی بہت زیادہ
نہیں تھی، پھر کیسے اُنہوں نے احمد کی اس طرح مدد کی۔ یہ راز
سالوں بعد اُستاد کی وفات کے بعد اُسے والد نے بتایا کہ اُستاد محترم نے
اُنہیں سختی سے منع کیا تھا کہ اُن کی
زندگی میں وہ یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گے۔ جس روز حسن کے والد نے احمد کے گھر
پیسے بھجوائے، اُس سے اگلے روز اُستاد محترم نے احمد کو اپنے پاس بلایا اور اُسے
کچھ پیسے دینے چاہیے، لیکن احمد نے انکار کر دیا۔پھر احمد نے اُستاد محترم کو سارا
قصہ سنایا۔ جب اُستاد محترم نے سرفراز صاحب کا نام سنا، تو وہ فوراً پہچان گئے۔ اُستاد محترم اور
سرفراز صاحب ایک دوسرے کو اچھے طریقے سے جانتے تھے۔ اِس کے بعد اُستاد کو احساس
ہوا کہ احمد کے مسئلے میں شاید حسن نے والد کو بتایا ہو اور یوں سرفراز صاحب کے
ذریعے اُنہوں نے احمد کے گھر پیسے بھیجے ہوں۔ اُنہوں نے حسن کے والد کو کال کی اور
جب اُنہیں ساری بات پتہ چلی، تو اُنہوں نے
حسن کے والد سے کہا کہ میں ہر مہینے آپ
کے ساتھ اس کارخیر میں شریک ہونا چاہتاہوں، لیکن
جب تک میں زندہ ہوں، آپ یہ راز کسی کو مت بتائے گا۔
حسن نے یہ بات اپنے والد سے اِس چھوٹی عمر میں سیکھ لی تھی
کہ اپنے آس پاس والوں کا کس طرح خیال رکھنا ہے اور کس طرح دوسروں کی عزت نفس کو
بھی برقرار رکھنا ہے۔
No comments:
Post a Comment