آج وہ کامیاب انسان تھا۔ اُس کا دل خوشیوں سے بھرا ہوا
تھا۔اُس نے اپنے خواب کی تعبیر پا لی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ اُس نے یہ خواب بچپن سے
دیکھا ہو۔ انسان سکول کی ابتدائی زندگی میں کوئی بڑا خواب نہیں دیکھ پاتا، پھر
کیسے یہ کامیابی حاصل کرے۔ سب اُس سے یہی پوچھتے تھے کہ وہ اِس مقام تک کیسے
پہنچا۔ کامیابی کا راستہ اتنا سادہ نہیں ہوتا کہ ایک لفظ میں بیان کر دیا جائے۔
کامیابی کا راستہ ہر روز ایک نئی داستان کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ ہر روز انسان دو
راستوں پر ہوتا ہے۔ ہر روز انسان کو کامیابی والا راستہ چننا ہے۔جب پہلے دن انسان
کو کامیابی کے بارے میں پتہ ہی نہ ہو، تو کیا کرے! شاید اس کا جواب یہی ہےکہ انسان
ہر روز آنکھیں کھول کر گزارے۔ کبھی غفلت
نہ کرے، بلکہ روزانہ اپنے حواس کو چوکنا کرے اور چلنا شروع کردے۔ اُس کے بابا نے اُس کے لئے
کامیابی کے راستے کو بیان کرنا آسان کر دیا تھا،کیونکہ وہ اُس کی زندگی کے
ابتدائی دنوں سے ہی اُس کے لئے ڈائری لکھا کرتے۔ اِس لیے آج اِسے اپنے سکول کے
پہلے دن کے بارے میں بھی پتہ تھا کہ وہ دن کیسے گزرا۔
ΩΩΩΩΩΩ
اُس کا نام حسن تھا۔ بچپن سے ہی اُس میں تجسس بھرا ہوا تھا۔
جب چھ سال کی عمر میں وہ پہلی دفعہ سکول گیا، تو پہلے ہی دن سکول کے پرنسپل اُس کی
باتوں پر بہت حیران اور خوش ہوئے۔ وہ والد کے ساتھ پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوا تو
پرنسپل صاحب نے اُس سے اُس کا نام پوچھا۔ حسن نے بہت اعتماد سے اپنا نام بتایا۔
پھر پرنسپل صاحب نے اُس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز اچھی لگتی ہے تو حسن نے جواب
دیا کہ مجھے چیزوں کو جاننے کا بہت شوق
ہے۔ مجھے جو بھی چیز نظر آتی ہے، میں اُس کے بارے میں سوچنے لگ جاتا ہے۔ پرنسپل
صاحب تھوڑا حیران ہوئے، پھر پوچھا! مثلاً ابھی تک کس چیز کے بارے میں کیا سوچا ہے،
تو حسن کے پاس کہنے کےلئے ڈھیروں باتیں تھیں۔ حسن کہنے لگا مثلاً میرے گھر میں دو
پودے ہیں۔ ایک پودا بڑا ہے اور ایک چھوٹا۔
دونوں پودوں کے پتے کبھی کبھی زمین پر گرتے ہیں۔ عموماً جو پتے زمین پر گرتے ہیں
اُن کا رنگ پھیکا ہوتا ہے۔ میرے بابا پودوں کوپانی بھی دیتے ہیں، لہذا انہیں پیاس
بھی لگتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ہماری طرح کھانا بھی کھاتے ہیں، چونکہ کا قد بڑھ
رہاہے۔ ‘ پرنسپل صاحب بہت خوش ہوئے اور
کہا کہ آج آتے ہوئے کیا دیکھا۔ حسن کہنے
لگا کہ میرے گھر اور سکول کے درمیان دس گھر ہیں۔ گھروں کے دروازے لکڑی کے ہیں۔ اِس
کا مطلب ہے کہ بعض درختوں کی لکڑی سے دروازے بھی بن سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ میرے
گھر اور سکول کے درمیان چار درخت بھی ہیں۔ دو درخت بڑے ہیں جبکہ باقی دو کا سائز
میرے گھر کے پودوں جتنا ہے۔ ‘ بولتے بولتے حسن رکا تو حسن کے بابا نے کہا کہ میں نے اِسے گھر پر گنتی
سکھا دی تھی، اس کے علاوہ اردو کے حروف تہجی بھی سکھا دئیے ہیں۔ حسن کی باتوں نے
پرنسپل کو حیران اور خوش کر دیا تھا۔ اُنہوں نے پہلی کلاس کے انچارج اُستاد کو
بلایا اور اُنہیں حسن کے بارے میں بتایا۔ اُنہوں نے حسن کو پیار کیا اور اُسے اپنے
ساتھ کلاس میں لے گئے۔
سکول کا پہلا دن زیادہ اچھا نہ گزرا۔ بابا گھر چلے گئے اور وہ
بابا کے بغیر سکول میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ کلاس کے سب بچے اپنی اپنی کتابیں
کھولیں اردو کے حروف تہجی یاد کر رہے تھے۔
بابا نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آج شام اُسے قاعدہ خرید کر دیں گے۔ لہٰذا کلاس
میں بیٹھے بیٹھے اُس نے ایک ہم جماعت کے قاعدے سے دیکھنا شروع کیا۔ اُستاد محترم
سب بچوں کو الف، ب پڑھا رہے تھے۔ حسن یہ سب پڑھ چکا تھا، البتہ یہ قاعدہ اُس کےلئے
نیا تھا۔ اُس نے غور سے تصویریں دیکھنا شروع کر دیں۔ اُستاد پڑھا رہے تھے ’ت سے تختی‘۔ تختی کی تصویر بھی بنی ہوئی
تھی۔اُستاد نے حسن سے کہا کہ کل سے قاعدے کے ساتھ ساتھ تختی، قلم او ردوات بھی
لانی ہے۔ تاکہ لکھنا بھی سیکھ سکیں۔ اُستا نے سبق پڑھا دیا تھا اور اب بچوں کی تفریح
کا وقت ہو گیا۔ حسن کو موقع مل گیا۔اُس نے کمرے کو غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ جہاں
اُستاد بیٹھے تھے اُس کی پچھلی دیوار پر ایک سفید رنگ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اُستاد
کی کرسی کے سامنے میز تھا اور دونوں لکڑی سے بنے ہوئے تھے۔ حسن نے کلاس میں بینچ
گننا شروع کیے۔ کل پندرہ بینج تھے اور پانچ پانچ کی تین لائنوں میں پڑے تھے۔ ہر
بینچ پر دو بچوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ کمرے کی چھت سے ایک پنکھا لٹک رہا تھا۔
کمرے کی دو کھڑکیاں تھیں، جو سکول کے ساتھ والی گلی میں کھلتی تھیں۔ کھڑکھیوں میں
لوہے کی جالی لگی ہوئی تھی۔ کھڑکھی سے باہر گلی کا منظر نظر آ رہا تھا۔ حسن نے کھڑے
کھڑے بچوں کے بیگ گنے تو پتہ چلا کہ کلاس میں حسن سمیت بیس بچے ہیں۔ حسن اپنی اس
عادت کی وجہ سے کبھی بور نہیں ہوتا تھا، اس لیے اُسے تفریح کا پتہ بھی نہ چلا اور تفریح کا وقت گزر گیا۔ تفریح کے بعد اُستاد
دوبارہ کلاس میں آ گئے۔
اُستاد نے دیکھ لیا تھا کہ حسن سب سے پہلے کلاس میں موجود
تھا۔ جب سب بچے کلاس میں آ گئے تو استاد نے حسن سے پوچھا کہ تفریح کے وقت میں آپ
باہر کیوں نہیں گئے۔ حسن نے جواب دیا کہ وہ کمرے میں ہی بیٹھنا چاہ رہا تھا۔
اُستاد نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تفریح بھی ضروری ہے۔ پڑھائی کے وقت پڑھائی
اور تفریح کے وقت تفریح۔ آپ کو باہر جا کر کھیلنا چاہیے۔ جب آپ کھیلتے ہیں تو
آپ کی صحت اچھی رہتی ہے۔ پھر جب دوبارہ پڑھنے بیٹھتے ہیں تو پڑھنے میں بہت مزہ
آتا ہے۔ حسن نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ ہم جماعت دوستوں کے ساتھ کھیلےگا۔
سکول سے گھر آنے کے بعد حسن نے کھانا کھایا اور تھوڑی دیر
آرام کیا۔ شام کو بابا اُسے بازار لے گئے۔ بازار سے اُنہوں نے بیگ، قاعدہ، تختی،
قلم اور دوات خرید لی۔ دکان سے نکلنے سے پہلے بابا نے حسن کو بتایا کہ جب بھی کوئی
چیز خریدیں، دکان سے نکلنے سے پہلے اُسے اچھی طرح دیکھ لیں۔ اگر کسی چیز میں کوئی
خرابی ہو، تو ادھر ہی دکان پر تبدیل کرا لیں۔ اگر گھر جا کر پتہ چلے گا، تو پھر
دکان پہ واپس آنا پڑے گا اور وقت ضائع ہو گا۔ حسن نے بیگ، تختی اور قلم دوات کو
اچھی طرح دیکھا۔ سب چیزیں ٹھیک تھیں۔ بابا نے دکاندار کو پیسے دئیے اور دونوں گھر
کے لئے چل دئیے۔ رات کے کھانے کے بعد حسن کی والدہ نے اُس کا بیگ تیار کر دیا اور
اُس کے کپڑے بھی ترتیب سے رکھ دئیے تاکہ صبح دیر نہ ہو۔ حسن سکول کے اگلے دن کے
بارے میں سوچتے سوچتے سو گیا۔
بہت عمدہ انداز میں وقت کی قدر، صحت کا خیال رکھنا، اپنے ارد گرد کے ماحول سے واقفیت، اضافی وقت کا صحیح استعمال، بازاری اشیاء کی خریداری
ReplyDeleteمیں محتاط اور موسمی تبدیلی کے حوالے سے مزین
اور آسان تحریر